لاہو؛ چور پرانی موٹر سائیکل چھوڑ کر نئی لے اڑے، ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
لاہور:
گلشن راوی کے علاقے میں چور انوکھی واردات کرتے ہوئے پرانی موٹر سائیکل چھوڑ کر نئی لے اڑے، جس کی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔
سیف سٹی کیمروں میں نئی موٹرسائیکل چوری کرتے ویڈیو سامنے آگئی، جس پر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
گلشن راوی سے موٹر سائیکل چوری ہونے پر متاثرہ شہری نے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کی۔ کال موصول ہوتے ہی ورچوئل پیٹرولنگ آفیسر نے کیمروں سے ٹریسنگ شروع کی۔
کیمروں میں دو موٹر سائیکل سوار ملزمان کو پارکنگ میں لاک توڑ کر بائیک چراتے ہوئے دیکھا گیا۔ چور اپنی پہلے سے چوری شدہ بائیک وہیں چھوڑ گئے اور شہری کی نئی بائیک لے گئے۔
ترجمان سیف سٹی کے مطابق سیف سٹی کی معلومات پر پولیس نے موٹر سائیکل چور کو گرفتار کر لیا، سیف سٹی کیمروں کی بدولت جرائم کی فوری نشاندہی اور ملزمان کی گرفتاری ممکن ہو رہی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی یا ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر 15 پر کال کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل سیف سٹی
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔