Daily Ausaf:
2026-07-24@02:08:05 GMT

ٹیکنالوجی جنگیں جیتتی ہے، انسانیت جانیں ہارتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

جب سے انسانی تہذیب کا آغاز ہوا ہے، انسان جنگ و جدل کی تلخ راہوں میں الجھا رہا ہے ۔کبھی زمین کی توسیع کے لیے، کبھی دشمنوں کو زیر کرنے کے لیے، اور کبھی مظلوموں کو آزادی دلانے کے لئے۔ ابتدائی ادوار میں فتح کا انحصار سپاہیوں کی جسمانی طاقت اور ہتھیاروں کی تیزی پر ہوتا تھا۔ تلواریں، نیزے اور تیر کمان میدانِ جنگ کی پہچان تھے۔ گھوڑوں اور ہاتھیوں پر سوار لشکر ایک دوسرے سے ٹکرا کر فیصلہ کرتے تھے کہ کون فاتح ہے، اور اس کا دار و مدار انفرادی دلیری اور طاقت پر ہوتا تھا۔
لیکن جب نویں صدی میں چین میں بارود ایجاد ہوا اور چودھویں صدی میں یورپ میں اسے عسکری مقاصد کے لئے استعمال کیا جانے لگا، تو جنگ کی نوعیت بدلنے لگی۔
بارود کے ذریعے توپ خانے اور بندوقوں نے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ تیر و کمان کی جگہ اب توپ اور بندوق نے لے لی اور فوجی ترتیب و حکمت عملی ہمیشہ کے لئے تبدیل ہو گئی۔ نپولین کی جنگوں میں توپخانے، پیادہ فوج اور گھڑ سوار دستوں کا غیر معمولی اشتراک دیکھا گیا۔
بیسویں صدی، بالخصوص عالمی جنگوں کے دوران، جنگی ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی ہوئی۔ ٹینک، آبدوزیں، لڑاکا طیارے اور بالآخر ایٹم بم جیسی ہلاکت خیز ایجادات منظر عام پر آئیں۔
1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے، جنہوں نے سائنسی ترقی کے تباہ کن پہلو کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ دو لاکھ کے قریب جانیں تلف ہوئیں، اور آئندہ نسلیں بھی ان اثرات سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ جنگ اب صرف جسمانی قوت سے نہیں جیتی جا سکتی تھی، بلکہ ٹیکنالوجی کی برتری پورے شہر لمحوں میں مٹا سکتی تھی۔
اس کے بعد شروع ہونے والی سرد جنگ نے کھلی لڑائی کے بجائے ٹیکنالوجیکل مقابلہ بازی کو فروغ دیا۔ سیٹلائٹس، نیوکلیئر آبدوزیں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، اور جاسوسی ڈرونز نہ صرف دفاع بلکہ خفیہ کارروائیوں کا حصہ بن گئے۔
1991ء کی خلیجی جنگ پہلی بار ٹی وی پر براہِ راست نشر کی جانے والی جنگ بنی، جہاں امریکہ کی قیادت میں اتحاد نے سیٹلائٹ گائیڈڈ میزائلوں اور اسٹیلتھ طیاروں کے ذریعے جنگی کارروائیاں کیں۔
اکیسویں صدی میں جنگی میدان نے نیا موڑ لیا ہے۔ اب فتح کا انحصار صرف زمینی، فضائی یا بحری قوت پر نہیں بلکہ سائبر اسپیس اور خلا میں برتری پر بھی ہے۔ ڈرونز، مصنوعی ذہانت، ہائپر سونک میزائل، اور برقی مقناطیسی ہتھیار جنگی اصولوں کو ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔ اب ایک انسان سے ہلکا ڈرون ہزاروں میل دور بیٹھے آپریٹر کے ذریعے ایک اہم ہدف کو مکمل درستگی سے ختم کر سکتا ہے — بغیر کسی انسانی خطرے کے۔
اس تیز رفتار تکنیکی تبدیلی کی عملی مثال پاکستان نے 7 مئی 2025 ء کو بھارتی جارحیت کے جواب میں دی، جب چند منٹوں میں پاکستان نے جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کیا اور بغیر پائلٹ ڈرونز اور ہدفی میزائلوں سے بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا، جس نے بھارت کی روایتی فوجی تیاریوں کو غیر مؤثر کر دیا۔ یہ مختصر مگر فیصلہ کن کارروائی اس بات کا ثبوت تھی کہ آج کی جنگیں بڑی فوجی نقل و حرکت کے بجائے رفتار، درستگی اور الیکٹرانک حکمت عملی پر منحصر ہو چکی ہیں۔
دو روز قبل اسرائیل نے ایران پر ایسی ہی ایک منصوبہ بند اور تیز کارروائی کی۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیارے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے ذریعے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوئے جبکہ سائبر یونٹس نے ایرانی کمیونیکیشن اور ریڈار نظام کو بیک وقت ناکارہ بنا دیا۔ یہ کارروائی مختصر ضرور تھی، مگر جدید جنگ کے ارتقاء کا ایک نیا باب ثابت ہوئی، جہاں اطلاعاتی جنگ، نگرانی کی صلاحیت، اور درستگی سے نشانہ بنانے کی قوت فوجی طاقت پر غالب آ چکی ہے۔
ان حالیہ واقعات سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ بہادری، جسمانی طاقت اور براہِ راست تصادم کا زمانہ گزر چکا ہے۔ اب ریموٹ کنٹرول سے کی جانے والی کارروائیاں، الگورِدہم پر مبنی جنگ، اور سینسرز پر انحصار نئی حقیقت ہیں۔ میدان میں لڑنے والا سپاہی آج بھی اہم ہے، مگر اب وہ جنگی نظام کے ایک پیچیدہ اور وسیع تر پہیے کا محض ایک پرزہ ہے، جسے انجینئرز، ڈیٹا سائنسدانوں اور خفیہ اداروں کے ماہرین چلاتے ہیں۔
تاہم اس تمام ترقی کے باوجود، ایک ناقابلِ تردید حقیقت اب بھی باقی ہے — جنگ تباہی ہے۔ چاہے وہ تلواروں سے لڑی جائے یا سیٹلائٹس سے، نتیجہ ہمیشہ موت، نقل مکانی اور بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ مہذب معاشرے جو امن، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہوتے ہیں، وہ جنگ کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ معیشتیں تباہ ہو جاتی ہیں، نسلیں متاثر ہوتی ہیں، اور سماجی ڈھانچے بکھر جاتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی برتری فوجی کامیابی تو دے سکتی ہے، مگر جنگ کے زخموں کا مداوا نہیں کر سکتی۔
ہمارے وقت کا سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ وہی سائنس جو خلا میں سیٹلائٹ بھیج سکتی ہے، وہی ایک میزائل کو شہر برباد کرنے کے لئے رہنمائی دے سکتی ہے۔ انسانیت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ جنگ کیسے جیتی جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے کیسے روکا جائے۔
تاریخ نے ہمیں بارہا سکھایا ہے کہ کوئی قوم، چاہے جتنی بھی طاقتور ہو، جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتی۔
ڈرون حملوں اور سائبر حملوں کے اس دور میں عالمی قوتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پائیدار امن صرف طاقت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ سفارتی سنجیدگی، باہمی احترام، اور بین الاقوامی تعاون بھی لازم ہے۔ بصورت دیگر، ہم اپنی عظیم ایجادات کو اپنے عظیم ترین افسوس کا سبب بنا لیں گے۔
ماضی ہمیں خون سے لکھے اسباق دے چکا ہے، اور حال ہمارے سامنے ایک آئینہ ہے، جس میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کیا بن سکتے ہیں۔ اگر ہم نے تاریخ کی تنبیہات کو نہ سنا، تو چاہے مستقبل کتنا ہی روشن کیوں نہ ہو، وہ اسی تاریکی میں ڈوبا رہے گا جو انسانیت پر تلواروں کے دور سے مسلط ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے ذریعے کے لئے جنگ کے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار