نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 جولائی 2025ء) راہول گاندھی نے نریندر مودی کے پاکستان کیخلاف جھوٹے بیانیے کی دھجیاں اڑا دیں، مودی کو کہا آپ نے 35 منٹ میں ہی پاکستان کے سامنے سرینڈر کر دیا، بتا دیا کہ آپ کے پاس لڑنے کی طاقت نہیں ہے، سرکار نے پائلٹس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے، آپ میں 50 فیصد بھی دم ہے تو کہیں کہ ٹرمپ نے انڈیا پاکستان میں سیز فائر نہیں کرایا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارتی پارلیمنٹ میں بھی مودی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی میں ہمت ہے تو ٹرمپ کو جھوٹا کہہ کر دکھائے، مودی حکومت نے بھارتی خارجہ پالیسی کوتباہ کرکے رکھ دیا، آج چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

(جاری ہے)

راہول گاندھی نے بھارتی پارلیمنٹ میں نریندر مودی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی میں ہمت ہے تو ٹرمپ کو جھوٹا کہہ کر دکھائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بھی ملک پوری دنیا میں نہیں جس نے پاکستان کی مذمت کی ہو۔ مودی کو کہا گیا کہ سرنڈر کرو اور اس نے آدھے گھنٹے کے اندر ہتھیار ڈال دیے۔ راہول گاندھی نے بھارتی وزیردفاع پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان کو چین سے ڈر لگتا ہے، آج چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ مودی حکومت نے بھارتی خارجہ پالیسی کوتباہ کرکے رکھ دیا۔ سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چد مبرم نے بھی گزشتہ دنوں بھی پہلگام حملے پر تہلکہ خیزانکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملے کے دہشت گرد پاکستانی نہیں بھارتی تھے۔

بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت میری بات مانتی تو 5 جہازوں سے ہاتھ نہ دھونے پڑتے۔ دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے بھی دعوی کیا ہے کہ پاک بھارت جنگ کے دوران بائیس اپریل سے سترہ جون تک مودی اور ٹرمپ کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔جے شنکر نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی رابطے میں کسی مرحلے پر چاہے وہ تجارت کا معاملہ ہو یا کچھ اور ہو بھارتی وزیراعظم مودی اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔

دوسری جانب بھارتی سابق وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے پہلگام واقعے پر پاکستان کو کلین چِٹ دیتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ چدم برم نے پہلگام واقعے پر کی جانے والی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج تک نہ دہشتگردوں کی شناخت ہو پائی، نہ یہ پتہ ہو پایا کہ وہ کہاں سے آئے تھی چدبرم نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ پہلگام واقعے میں مقامی دہشت گرد ملوث ہوں، یہ کیوں سمجھ لیا گیا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے؟ اس کے برعکس پاکستان کی سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے بھارتی اپوزیشن کی جانب سے مودی سرکار کے جھوٹ بے نقاب کرنے کا خیرمقدم کیا ہ۔

شیری رحمان نے بھارتی وزیراعظم مودی کے پاکستان مخالف زہرافشانی پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اب بھارتی ایوانوں میں بھی مودی سرکار کی عسکری ناکامیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بھارتی اپوزیشن مودی کے جھوٹ سے تنگ آچکی ہے۔ بھارتی پنجاب میں رافیل کا ہی نہیں بھارت کے غرور کا ملبہ گرا ہے۔ یاد رہے بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت میری بات مانتی تو 5 جہازوں سے ہاتھ نہ دھونے پڑتے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے راہول گاندھی نے بھارتی اپوزیشن بھارتی وزیر پاکستان کے مودی حکومت نے بھارتی نے کہا کہ ہوئے کہا مودی کو

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا