لاش کی بو چھپانے کیلئے سفید پاؤڈر؟ موت کے بعد حمیرا اصغر کی واٹس ایپ ’ڈی پی‘ کیسے غائب ہوئی؟ تفتیشی ٹیم اُلجھ کر رہ گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
کراچی(شوبز ڈیسک)کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں کئی ماہ پرانی لاش ملنے کے بعد اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی موت معمہ بنتی جا رہی ہے۔ اداکارہ کی پراسرار گمشدگی، ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر ہونے والی سرگرمیوں اور لاش کے ساتھ برآمد ہونے والے مشکوک شواہد نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے اس وقت ملی جب گمشدگی کی شکایت پر تفتیش شروع کی گئی۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اداکارہ کی موت سات یا آٹھ اکتوبر 2024 کو واقع ہوئی، جبکہ ان کا موبائل فون آخری بار 7 اکتوبر کی شام پانچ بجے استعمال ہوا۔ تاہم اس کے باوجود اداکارہ کے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر فروری 2025 تک کچھ سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں، جس میں ان کی پروفائل تصویر (ڈی پی) کا غائب ہونا اور ”لاسٹ سین“ ہٹایا جانا شامل ہے۔
اداکارہ کے قریبی ساتھی اور ہیئر اسٹائلسٹ دانش مقصود کے مطابق، حمیرا کے واٹس ایپ پر 5 فروری کے بعد بھی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اداکارہ اکتوبر میں ہی وفات پا گئی تھیں تو یہ ڈیجیٹل تبدیلیاں کس نے کیں؟ کیا کسی نے ان کا موبائل استعمال کیا یا پھر اکاؤنٹ کسی اور ڈیوائس پر متحرک رہا؟
تفتیشی حکام اس پہلو پر بھی غور کر رہے ہیں کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ اگر 120 دن تک غیر فعال رہے تو خود بخود ڈیلیٹ ہو جاتا ہے اور پروفائل تصویر بھی غائب ہو جاتی ہے۔ اگر یہ اصول لاگو کیا جائے تو 7 اکتوبر 2024 سے 120 دن بعد، یعنی 4 فروری 2025 کو اکاؤنٹ غیر فعال ہوا ہوگا۔ لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا حمیرا اصغر کا فون کب تک انٹرنیٹ سے منسلک رہا۔
مزید یہ کہ فلیٹ سے ملنے والی لاش کے ساتھ مٹی کے برتنوں میں سفید سفوف بھی ملا ہے، جس پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر اسے لاش کی بو کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
پولیس حکام اب نہ صرف موت کے اصل اسباب کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اس ڈیجیٹل معمہ کو بھی سلجھانے میں مصروف ہیں کہ اداکارہ کے واٹس ایپ ڈی پی اور لاسٹ سین کیسے اور کب غائب ہوا؟
حمیرا اصغر کی المناک موت نے نہ صرف ان کے مداحوں کو افسردہ کر دیا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کے جوابات تاحال دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حمیرا اصغر کی کے واٹس ایپ
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔