خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 5 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جون 2025ء ) صوبہ خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی دو مختلف کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 5 خوارج مارے گئے۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق 15 اور 16 جون 2025ء کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں دو الگ الگ کارروائیوں میں انڈین پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 5 خوارج کو ہلاک کردیا گیا۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے ضلع پشاور میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا جس میں ہندوستانی سرپرستی میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع تھی، آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مہارت کے ساتھ ہندوستانی سپانسر شدہ خوارج کے مقام کو گھیر لیا اور مؤثر طریقے سے کارروائی کیا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 4 ہندوستانی سپانسر شدہ خوارج بشمول خارجی حارث اور خارجی بصیر کو جہنم واصل کر دیا گیا۔(جاری ہے)
آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس پر مبنی ایک اور آپریشن ضلع شمالی وزیرستان میں کیا گیا اور اس کے نتیجے میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک اور خارجی کو ہلاک کردیا گیا، بھارتی سرپرستی میں ہلاک ہونے والے خوارج سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا جو ان علاقوں میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے، علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے ہندوستانی سپانسر شدہ خارجی کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں کیوں کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز ملک سے ہندوستانی سپانسر شدہ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہندوستانی سپانسر شدہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔