پی ٹی آئی اراکین اس بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے، یہ تباہی کا سبب بنے گا، سینیٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
سینیٹر علی ظفر(فائل فوٹو)۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی اراکین اس بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے، یہ بجٹ منظور ہوا تو پاکستان کی تباہی کا سبب بنے گا۔
اسلام آباد میں سینیٹ اجلاس کے موقع پر ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے خلاف جنگ جیت چکا ہے، اب اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت کی ہے۔ اسرائیل نے ایران میں اہم شخصیات کو شہید کیا، ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا، اسرائیل کا اس طرح ایران پر حملہ کرنا ہمارے لیے وارننگ ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے جاسوسی ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا، پاکستان کے خلاف خطرہ ٹلا نہیں ہے، قانونی اور سفارتی جنگ جیتنے کے لیے اتحاد ضروری ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا سیاست کو جمہورریت کی طرح چلنے دیں، اپوزیشن کو اپنا دشمن نہ سمجھیں، پی ٹی آئی پر ظلم بند کرکے معیشت پر دھیان دیں۔
انھوں نے کہا ایران کے خلاف جنگ پاکستان کے خلاف جنگ سمجھیں، پچاس فیصد آبادی غربت کی سطح سے نیچے ہے، بجٹ میں 42 فیصد نئے ٹیکس لگے ہیں۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا اسرائیل ایران جنگ سے پیٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے، ٹیکس بڑھا کر کہنا کہ جی ڈی پی بڑھے گی، ٹیکس لگا کر گروتھ نہیں ہوسکتی، کاربن ٹیکس عجیب ٹیکس ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایف بی آر نے بار بار کوشش کی اسے پولیس کا اختیار اور گرفتار کر نے کا اختیار دیا جائے، پہلی بار کسی بجٹ میں ایف بی آر کو پولیس کا اختیار دیا گیا ہے، یہ خوف و ہراس پیدا کرنے کا بجٹ ہے، ایف بی آر کو پولیس فورس بنا دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹر علی ظفر نے پی ٹی آئی کے خلاف کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی