خیبرپختونخوا؛سینیٹ کا ضمنی الیکشن، مشال یوسفزئی 86ووٹ لے کر سینیٹر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبر پختونخوا میں ثانیہ نشتر کے استعفیٰ کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست پر ضمنی الیکشن میں مشال یوسفزئی سینیٹر منتخب ہو گئیں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق مشال یوسفزئی نے 86ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مدمقابل مہتاب ظفر نے 53ووٹ حاصل کئے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی سینیٹ الیکشن کیلئے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پولنگ شام 4 بجے تک جاری رہی۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایوان کی کل تعداد 145 ہے، جس میں پی ٹی آئی حکومتی اراکین کی تعداد 92 جبکہ اپوزیشن اراکین کی تعداد 53 ہے۔
9مئی مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما ؤں کو سزائیں، بیرسٹر گوہر کا ردعمل بھی سامنے آگیا
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کے اراکین کی تعداد 18، 18 ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے 10، عوامی نیشنل پارٹی کے 4 اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے اراکین کی تعداد 3 ہے۔
یاد رہے کہ سینیٹ کی یہ نشست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینیٹر ثانیہ نشتر کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اراکین کی تعداد
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔