خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن: ثانیہ نشتر کی خالی نشست پر مشال یوسفزئی سینیٹر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
سینیٹر منتخب ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشال یوسفزئی نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شکر گزار ہیں، سینیٹر منتخب ہونا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ان کے بقول 5 ماہ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی. وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے سپورٹ کیا اور ووٹ بھی دیا۔مشال یوسفزئی نے مزید کہا کہ سینیٹ انتخابات میں آج نہ پیسہ چل سکا نہ کسی کا زور چل سکا، ایک ایم پی اے بیمار ہے اور 4 ووٹ مسترد ہوئے ہیں، ہمارا کوئی ووٹ اپوزیشن کو نہیں ملا۔الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی سینیٹ الیکشن کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پولنگ شام 4 بجے تک جاری رہی، دوران ووٹنگ بیلٹ پیپر باہر لے جانے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایوان کی کل تعداد 145 ہے، جس میں پی ٹی آئی حکومتی اراکین کی تعداد 92 جبکہ اپوزیشن اراکین کی تعداد 53 ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کے اراکین کی تعداد 18، 18 ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے 10، عوامی نیشنل پارٹی کے 4 اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے اراکین کی تعداد 3 ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے خواتین نشست پر مشال یوسفزئی کو ٹکٹ جاری کیا تھا اور پارٹی کے دیگر امیدواروں کو دستبردار ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔پیپلز پارٹی کی امیدوار راحیلہ بی بی مسلم لیگ (ن) کی امیدوار کے حق میں دستبردار ہو گئی تھیں، انہوں نے الیکشن سے دستبرداری کے لیے ریٹرننگ آفیسر کو خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ (ن) لیگ کا ساتھ دیں گی۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی رہنما صائمہ خالد نے سینیٹ انتخاب سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، صائمہ خالد نے اپنے تحفظات سے متعلق پارٹی کو آگاہ کردیا تھا۔
یاد رہے کہ سینیٹ کی مذکورہ نشست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینیٹر ثانیہ نشتر کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اراکین کی تعداد مشال یوسفزئی پی ٹی آئی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔