کیا امریکہ اور اسرائیل ایران میں کامیاب ہو جائیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ایران کی گذشتہ پینتالیس سالہ تاریخ کے مطالعہ کے بعد یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکاب ایران پر حملہ کی صورت میں کیا ہے اور یہی غلطی انکو ہلاک کر رہی ہے۔ ایران جو گذشتہ پینتالیس سالوں سے امریکی اور غاصب صیہونی گینگ اسرائیل سمیت مغربی اور یورپی ممالک سمیت خطے کی خیانت کار عرب حکومتوں کی غداریوں سے چوٹ کھاتا آرہا ہے، وہ ایسے درجنوں تجربات سے گزر چکا ہے، جو کچھ 13 جون کی صبح سے شروع ہوا ہے، تاہم دنیا بھر کے ماہرین سیاسیات کے نزدیک یہ بات بہت واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ سمیت غاصب صیہونی گینگ اسرائیل کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور ایران اس جنگ کے بعد ایک نیا، مضبوط اور طاقتور ایران بن کر ابھرے گا۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
غزہ، لبنان، یمن اور عراق میں امریکی و اسرائیلی پالیسیوں کو بری طرح شکست کا سامنا ہے۔ یہ منظرنامہ خاص طور پر سات اکتوبر یعنی فلسطین کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد کا ہے۔ امریکی حکومت نے تمام تر کوشش کرکے دیکھ لی ہے، لیکن نہ تو فلسطین میں حماس اور جہاد اسلامی کا خاتمہ ممکن ہوا اور نہ ہی لبنان میں حزب اللہ کو کمزور کرنے کی منصوبہ بندی کام آئی۔ اس سارے عرصہ میں اگر کچھ حاصل ہوا تو فی الوقت شام کا کچھ علاقہ اسرائیلی فوج کے لئے مزید قبضہ کیا گیا اور جولانی جیسے دہشتگرد کے ساتھ ٹرمپ کی تصویر آئی، جس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ امریکی پالیسیاں کامیاب ہو رہی ہیں، لیکن امریکہ سمیت خود یورپی اور غرب ایشیائی ممالک کے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تو انتہائی بھونڈا پن تھا۔ البتہ شام میں حکومت کی تبدیلی کو امریکہ اور اسرائیل کے حق میں قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ شام کی نئی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کی بنیاد پر حکومت حاصل کی ہے اور اس میں ہمیشہ کی طرح مسلم امہ کے اندر کے غداروں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے، جیسا کہ ترکی۔
دوسری طرف یمن کی صورتحال ہے کہ جہاں امریکہ اور برطانیہ نے ایک طرف جنوبی یمن میں سعودی عرب اور امارات کے ساتھ مل کر یمن کی انصاراللہ حکومت کے خلاف سازشوں کا بازار گرم کیا اور ساتھ ساتھ امریکی اور اسرائیلی دہشتگردی کا نشانہ بنا کر صنعا اور دیگر شہروں پر بمباری بھی کی گئی۔ نتیجہ میں یمن کی مزاحمت نے امریکی صدر ٹرمپ کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے بحری جہازوں کی حفاظت کی ضمانت لینے یمن کے دوست ملک مسقط کے پاس چلے گئے اور پھر وہاں سے ہی اعلان کر دیا کہ امریکہ نے یمن کے ساتھ جنگ بندی کر دی ہے اور یمن کی مسلح افواج امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔ حالانکہ اس سے قبل امریکی صدر نے چند دن میں دو ارب ڈالر کا گولہ بارود یمن پر برسایا تھا، لیکن ناکامی کا عالم یہ تھا کہ یمن کی مسلح افواج سے درخواست کی گئی کہ امریکی جہازوں کو امان دی جائے اور اس طرح بحیرہ احمر میں امریکہ نے غاصب صیہونی گینگ اسرائیل کے بحری جہازوں کو یمن کی مسلح افواج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
تمام سیاسی ماہرین نے اس عمل کو امریکی حکومت کی بہت بڑی شکست قرار دیتے ہوئے امریکی بالادستی کی ناکامی قرار دیا۔ دوسری طرف شام پر قبضہ کے بعد امریکی حکومت نے عراق کی حکومت کو دبائو کا نشانہ بنانا شروع کیا اور عراق سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات محدود کرے اور ساتھ ساتھ عراقی فوج میں کمی کی جائے۔ حیرت کی بات ہے کہ امریکی حکومت دنیا کے دوسرے ممالک سے ایسے بے ہودہ مطالبات کرتی ہے کہ جس سے ان ممالک کی اپنی سکیورٹی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ عراق کی حکومت اگرچہ بہت زیادہ مضبوط نہیں ہے، لیکن عراقی حکومت نے پھر بھی امریکی حکومت کے دبائو کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا۔ عراق کی حکومت نے واضح موقف اختیار کیا کہ عراق اپنی سرکاری فوجوں کہ جس میں حشد الشعبی بنیادی حصہ ہے، اس کو کسی صورت فوج سے الگ نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملہ میں بھی امریکی حکومت کو شکست اور ہزیمت کا تاحال سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اب ذرا ملاحظہ کیجئے کہ فلسطین، غزہ اور لبنان و یمن سے لے کر عراق تک امریکی حکومت کی بالا دستی کو ناکامی کا سامنا ہے۔ اس تمام تر شکست کا بدلہ لینے کے لئے امریکی حکومت نے ایران کو از سر نو گھسیٹنے کی کوشش کی۔ پہلے ایران کو اس کے جوہری پروگرام کے بہانہ سے روکنے کی کوشش کی، اس سے قبل امریکی حکومت نے ہمیشہ یہی واویلا کیا کہ خطے میں اسرائیل کے خلاف ہونے والی فلسطینی مزاحمت کے پیچھے ایران ہے اور ایران ان کی حمایت کرتا ہے۔ لہذا جب جوہری مذاکرات کا آغاز دوبارہ ہوا تو یہاں بھی امریکی حکومت نے ہر دور میں اسرائیل کی سکیورٹی مانگی، جس پر ایران نے ہمیشہ اس بات کو مذاکرات کا حصہ بنانے پر امریکی مذاکرات کاروں کی مذمت کی۔ جوہری مذاکرات میں امریکی عہدیداروں کا مطالبہ رہا کہ فلسطین سمیت خطے میں موجود تمام مزاحمتی گروہوں کو ختم کیا جائے۔
اس معاملہ میں ایران نے واضح اور دوٹوک موقف اپنایا اور امریکی حکام کو بلا واسطہ مذاکرات میں واضح کیا کہ ایران فلسطین کاز اور ان کی مزاحمت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ فلسطین کے اندر اور فلسطین سے باہر مزاحمتی تحریکیں خود مختار اور آزاد ہیں، جو کہ ایران کی سرپرستی میں یا ڈکٹیٹر شپ میں نہیں ہیں، تاہم ایران ایسے مطالبات کو رد کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکی حکومت پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی اس بات کو باور کرچکی تھی کہ مذاکرات میں ایران کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ ان مذاکرات سے قبل ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای یہ بات واضح کرچکے تھے کہ امریکہ ایک کے بعد ایک مطالبہ کرے گا اور چاہے مذاکرات ہوں یا نہ ہوں، امریکہ کبھی بھی ایران کے حق کو تسلیم نہیں کرے گا، کیونکہ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صرف طاقت کا مرکز غاصب صیہونی گینگ اسرائیل ہونی چاہیئے۔
اسی لئے انہوں نے امریکہ کو للکار کر کہا تھا کہ تم ہوتے کون ہو، ایرانی عوام کو یہ بتانے والے کہ ایران کے پاس کیا ہوگا اور کیا نہیں ہوگا۔ یعنی انہوں نے ایک جملہ میں امریکی بالا دستی کو خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا۔ امریکہ اور غاصب صیہونی گینگ اسرائیل دونوں ہی مایوس ہو کر اس نتیجہ پر پہنچے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے اور اس حوالے سے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کا مشکوک اور تعصبانہ کردار بھی قابل مذمت رہا ہے کہ جس نے حقائق کے بر خلاف ایران کے خلاف قرارداد منظور کی اور اس کے بعد غاصب صیہونی گینگ اسرائیل نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا اور ایران پر حملہ کر دیا۔
اب یہ جنگ جاری ہے، آج جنگ کا چوتھا روز ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل کامیاب ہو جائیں گے۔؟ یقینی طور پر حالات اور واقعات کو دیکھتے ہوئے اور ایران کی گذشتہ پینتالیس سالہ تاریخ کے مطالعہ کے بعد یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکاب ایران پر حملہ کی صورت میں کیا ہے اور یہی غلطی ان کو ہلاک کر رہی ہے۔ ایران جو گذشتہ پینتالیس سالوں سے امریکی اور غاصب صیہونی گینگ اسرائیل سمیت مغربی اور یورپی ممالک سمیت خطے کی خیانت کار عرب حکومتوں کی غداریوں سے چوٹ کھاتا آرہا ہے، وہ ایسے درجنوں تجربات سے گزر چکا ہے جو کچھ 13 جون کی صبح سے شروع ہوا ہے، تاہم دنیا بھر کے ماہرین سیاسیات کے نزدیک یہ بات بہت واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ سمیت غاصب صیہونی گینگ اسرائیل کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور ایران اس جنگ کے بعد ایک نیا، مضبوط اور طاقتور ایران بن کر ابھرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غاصب صیہونی گینگ اسرائیل امریکہ اور اسرائیل امریکی حکومت ہے کہ امریکہ اسرائیل کے اور ایران کہ امریکی حکومت نے کہ ایران ایران کے کی حکومت کے ساتھ رہا ہے کے بعد کی اور گا اور کیا جا یمن کی نے ایک ہے اور
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو