پاکستان کی معیشت سے بڑی خبر،فوجی فرٹیلائزر نے پی آئی اے خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کردیا، دستاویز سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
پاکستان کی معیشت سے بڑی خبر،فوجی فرٹیلائزر نے پی آئی اے خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کردیا، دستاویز سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:پاکستان کی سب سے بڑی کھاد ساز کمپنی فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یعنی پی آئی اے کے حصص خریدنے میں دلچسپی کا باقاعدہ اظہار کردیا، یہ پیش رفت پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
کمپنی نے پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمع کروائے گئے نوٹس میں بتایا کہ 13 جون 2025 کو منعقد ہونے والے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 234ویں اجلاس میں نجکاری کمیشن کو دلچسپی اور پری کوالیفیکیشن دستاویزات جمع کرانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ساتھ ہی کمپنی نے پی آئی اے کے مالی و انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی فرٹیلائزر کمپنی، جو پاکستان میں کھاد اور کیمیکل سازی کے علاوہ سیمنٹ، فوڈ پروسیسنگ، توانائی اور بینکاری کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرتی ہے، اب قومی ایئرلائن میں شمولیت کی خواہشمند ہے۔
دوسری جانب پی آئی اے ایک سرکاری ملکیتی فل سروس ایئرلائن ہے جس کے تقریباً 96 فیصد حصص حکومت پاکستان کے زیرِ انتظام پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے پاس ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران پی آئی اے نے 30 مقامات پر 4 ملین سے زائد مسافروں کو سروس فراہم کی اور ہفتہ وار 268 پروازیں چلائیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے پی آئی اے کی 51 سے 100 فیصد حصص کی فروخت کے لیے اظہار دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 جون سے بڑھا کر 19 جون 2025 کر دی ہے، تاکہ سنجیدہ سرمایہ کاروں کو موقع دیا جا سکے، حکومت اس نجکاری کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے اصلاحاتی پروگرام کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی تھی، جب قومی ایئرلائن میں واحد دلچسپی رکھنے والے بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم نے صرف 10 ارب روپے میں 60 فیصد حصص خریدنے کی پیش کش کی، جو حکومت کی 85 ارب روپے کی کم از کم قیمت سے کہیں کم تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) میں بڑے پیمانے پر تقرری و تبادلے ،نوٹیفکیشن سب نیوز پر چینی صدر چین وسطی ایشیا کے دوسرے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آستانہ پہنچ گئے چین کی قومی معیشت کا سفر مئی میں مستحکم پیشرفت کے ساتھ جاری رہا ،قومی ادارہ برائے شماریات وفاقی بجٹ: پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کی پیشکش مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس؛ سپریم کورٹ میں اہم سوالات زیربحث دنیا کو اسرائیل کی جوہری صلاحیت کے بارے میں خوفزدہ ہونا چاہیے: خواجہ آصف ایرانی سپریم لیڈر زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل، اسرائیلی حملوں کے بعد تہران میں ہنگامی صورتحالCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے پی ا ئی اے سب نیوز
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں