یورپ بھجوانے کا جھانسا دیکر اغوا کرنیوالے بین الاقوامی گروہ کے کارندے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
یورپ بھجوانے کا جھانسا دے کر اغوا کرنے والے بین الاقوامی گروہ کے کارندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بین الاقوامی اغوا کار گروہ کے 3 اہم کارندوں کو گرفتار کر لیا ہے جو نوجوانوں کو یورپ لے جانے کا جھانسہ دے کر اغوا کرتے تھے۔
ڈی پی او نوشہرہ نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ یہ گروہ سادہ لوح افراد کو اغوا کر کے بالکل کچے کے ڈاکوؤں کی طرز پر ورثا سے لاکھوں ڈالر تاوان وصول کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ گروہ کا نشانہ بننے والا تازہ ترین کیس ایک افغان شہری کا تھا، جسے یورپ بھجوانے کا جھانسا دے کر نوشہرہ کے علاقے جہانگیرہ سے اغوا کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کیس کو چند دنوں ہی میں ٹریس کر لیا اور 3 ملزمان کو گرفتار کر کے مغوی شخص کو بازیاب کرایا۔
گرفتار ملزمان کا تعلق ایک ایسے گروہ سے ہے جو بیرون ملک سے سرگرم ہے اور ماضی میں بھی متعدد نوجوانوں کو غیرقانونی طریقے سے بیرون ملک لے جانے کے بہانے اغوا کر چکا ہے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے نوشہرہ پولیس کی ٹیم کو بروقت کارروائی پر سراہا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس قسم کے جعلساز گروہوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔