ایران نے دن بھر کی اسرائیلی جارحیت کے بعد چوتھے روز بھی آپریشن وعدہ صادق 3 کے تحت جوابی کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں پر جدید بیلسٹک میزائل داغ دیئے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائل فضاؤں میں ہیں، اور اسرائیل کی جانب بڑھ رہے ہیں، حیفہ اور دیگر علاقوں میں سائرن بجاکر شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں تک جانے کی ہدایت کی جارہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل شمالی اسرائیل کے مختلف علاقوں پر گرسکتے ہیں، میزائل حملے کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے، تاہم شہری اگلی ہدایات تک محفوظ مقامات شیلٹرز میں اور پناہ گاہوں میں چلے جائیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایران نے چند ہی میزائل داغے ہیں، میڈیکل ٹیمیں تیار ہیں، تاہم اب تک کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ۔
تہران ٹائمز کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں آج کی ’رات کو دن کے نظارے‘ میں بدل دیں گے۔
ایران کی مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی سرزمین پر بلا اشتعال اسرائیلی جارحیت نے تہران کو مجبور کر دیا کہ وہ ایرانی قوم اور ملک کی سلامتی کے دفاع کے لیے مجرم صیہونیوں کو جواب دے۔
جوابی کارروائی کے طور پرآپریشن وعدہ صادق 3کے تحت ایران نے پیر کی رات فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی جانب میزائلوں کی بڑی تعداد فائر کر دی ۔
یاد رہے کہ گزشتہ 3 روز سے ایران کی اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی اب تک کی کارروائیوں کے نتیجے میں24 یہودی شہری ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

 

 

اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس پرغیرقانونی قبضہ ختم کریں تو دوریاستی حل پر پیشرفت ہوسکتی ہے،اسحاق ڈار
اسلام آبادـ:نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ محمداسحاق ڈارنے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لئے دوریاستی فارمولہ زیرغورہےلیکن اس پرپیشرفت اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس سےاپناغیرقانونی قبضہ ختم کرے، ان کی ایسی کی تیسی جو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔
نجی ٹی وی کوانٹرویومیں اسحاق ڈارنے کہاکہ مشرق وسطی میں امن کے لئے دوریاستی فارمولے کے حوالے ایک کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کے مشترکہ تعاون سے 17جون سے نیویارک میں ہونی تھی لیکن کئی ممالک کے وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات میں اس کانفرنس کو ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے اسی لئے میں امریکہ کے دورے پر نہیں گیا۔انہوں نے کہاکہ دوریاستی حل کی تجویزپر اس وقت تک پیشرفت نہیں ہوسکتی جب تک اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس سےاپناغیرقانونی قبضہ ختم نہیں کرتا۔انہوں نے کہاکہ اب تک دوریاستی حل کی تجویزپرمذاکرات کے پانچ ادوارہوچکے ہیں،جن میں ایک بات یہ سامنے آئی تھی کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اقوام متحدہ کے کنٹرول میں دے دیاجائے لیکن اس تجویزپر مزیدکوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہاکہ اللہ نہ کرے ایٹمی جنگ ہو،سوشل میڈیاپرزیرگردش ویڈیوزفیک ہیں 13جون کے بعد سے فیک نیوزپھیلائی جارہی ہیں، فیک نیوز کے حوالے سے ہمیں چیزوں کو کلیئرکرناچاہئے،ہمارانیوکلیئرپروگرام اورمیزائل ہماری حفاظت کےلئے ہیں،بھارت کچھ کرے تو پہلے سے زیادہ سخت جواب ملے گا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان تمام سفارتی فورمزپرایران کی سپورٹ کررہاہے اور کرتارہے گا، ہماری کوشش تھی کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کامیاب ہوں،وزیرخارجہ عمان اور ایران نے مجھ سے رابطہ رکھا،سکیورٹی کونسل میں ایران کے نمائندے نے پاکستان سمیت چارممالک کاشکریہ اداکیا،ایران کے وزیرخارجہ سے اسرائیلی حملے سے پہلے اور بعد میں بات کی ،ایرانی وزیرخارجہ نے کہاکہ اس عمل کاہم جواب دیں گے،ایرانی وزیرخارجہ نے حملے کے بعد کہاکہ اسرائیل نے دوبارہ حملہ نہ کیاتو مذاکرات کی میزپر آنے کو تیارہیں،ہم نے ایران کی بات آگے ممالک سے کی کہ اب بھی وقت ہے کہ اسرائیل کو روکاجائے تو ایران تیارہے،ہم نےکہاکہ مذاکرات میں ہم ان کی سہولت کاری کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اے آئی ای اے کی ایران سے متعلق رپورٹ پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا،  کچھ ممالک کی طرف سے مہم چلائی گئی کہ ہم ایران کے خلاف رپورٹ پر ووٹ دیں۔نائب وزیراعظم نے کہاکہ سوشل میڈیاپر جھوٹ بھولاگیاکہ اگراسرائیل نے ایٹمی حملہ کیاتوپاکستان بھی کردے گا۔جوہری تنصیبا ت پر حملہ سنگین جرم ہے،انہوں نے کہاکہ ان کی ایسی کی تیسی جو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے،  جواس قوم کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گاا س کی آنکھ نکال دیں گے۔اسحا ق ڈارنے کہاکہ این پی ٹی پرہماراموقف ہےکہ جب تک بھارت دستخط نہیں کرےگاہم بھی نہیں کریں گے ۔ ایک سوال پر انہوں نےکہاکہ بھارت کی ملٹری قیادت کی طرف سے سیزفائرہے،بھارت کی خطے میں بالادستی کاتاثرختم ہوچکاہے،  بھارت سے دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرنے کوتیارہیں،بھارت سے صرف دہشت گردی نہیں کشمیراورپانی  پربھی بات کریں گے۔

 

اسرائیل،ایران جنگ میں ’’فیک نیوز‘‘کاچیلنج سنگین
پاکستان بارےپروپیگنڈے کے تانے بانے بھارت سے ملنے لگے
امریکی صدر ٹرمپ جنگ بندی کے لئےدعوے نہیںعملی اقدمات کریں
اسلام آباد(طارق محمودسمیر) اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں فیک نیوز چلنے کاسلسلہ جاری ہے تاہم اس میں پاکستان کی طرف سے اسرائیل پرایٹمی حملے کی ایک فیک نیوزسوشل میڈیاکے علاوہ انٹرنیشنل میڈیاپر بھی چلادی گئی ہے جس کی نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈارنے دوٹوک الفاظ میں تردیداور وضاحت کردی ہے کہ پاکستان کاایٹمی اور میزائل پروگرام ملکی سالمیت اور تحفظ کے لئے ہے،اسرائیل پر ایٹمی حملے کرنے کی خبروںمیں کوئی صداقت نہیں ہے،یہ جعلی خبریں اے آئی کے ذریعے جنریٹ کرکے پھیلائی جاررہی ہیں،سینیٹ کے اجلاس میں حکومت کی طرف سے پالیسی بیان دیتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے کہاکہ ایک یہ خبرچلائی گئی جس میں مبینہ طور پر ایران کے ایک اعلیٰ فوجی افسرکاحوالہ دے کریہ تاثردیاگیاکہ اگراسرائیل نے ایران پر ایٹمی حملہ کیاتو اس کے جواب میں پاکستان اسرائیل پر ایٹمی حملہ کردے گا،یہ ایک غیرذمہ دارانہ اور جھوٹی خبرہے اورحد تو یہ ہوئی کہ برطانیہ کے ایک خبرڈیلی میل نے یہ خبرچلادی ہے،اسحاق ڈارنے امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی بھی ایک اے آئی جنریٹڈ ویڈیوکاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ بھی جعلی ہے،صدرٹرمپ نے ایساکوئی بیان نہیں دیا،پاکستان نے ایران پراسرائیلی حملے کی شدیدمذمت کی ہے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے بھی سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے موقف کا اظہارکیا،وزیراعظم شہبازشریف کی ایرانی صدراوراسحاق ڈار کی وزیرخارجہ سے ٹیلی فون پر بات ہوئی جس کے بعد بھارتی میڈیامیں ایک واویلااور اسی طرح کاپروپیگنڈاشروع کردیاگیاجیسابھارتی میڈیانے پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران کیاتھااوریہ جوفیک نیوز چلی ہے اس کابھی کھرا بھارت میں ہی نکل رہاہے،اس خبرکے ذریعے پاکستان کے بارے میں دنیامیں غلط تاثربنانے کی کوشش کی گئی لیکن حکومت کی طرف سے بروقت وضاحت کے بعد عالمی دنیاکو پاکستان کے موقف سے آگاہی ہوئی ہے دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک نیاموقف اختیارکیاہے کہ جس طرح انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیزفائرکرایاتھااسی طرح کاسیزفائروہ اسرائیل اور ایران کاکراسکتے ہیں،پاکستان اور بھارت کی جنگ کی نوعیت مختلف تھی اور ایران کے مقابلے میں پاکستان کی مضبوط افواج اور جدیدٹیکنالوجی سے لیس فضائیہ  موجودہے،صدرٹرمپ نے بروقت مداخلت کرکے خطے کو بڑی مداخلت سے بچایاہے لیکن بھارت مذاکرات کی میزپر نہیں آرہاہے لہذابھارتی لیڈرشپ کے دھمکی آمیزبیانات کاسلسلہ تھمانہیں ہے اب صدرٹرمپ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اسرائیل ،ایران میں صلح کرائیں گے تو انہیں سب سے پہلے اپنے اتحادی اسرائیل کو روکناہوگاپھردیگردوست ممالک ایرانی قیادت سے رابطہ کرکے سیزفائرکراسکتے ہیں لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کا مستقبل بنیادوں پر خاتمہ کرایاجائے اورآزادفلسطینی ریاست کے قیام کے لئے صدرٹرمپ اپنامثبت کرداراداکریں،صرف اس طرح کے بیانات دینے سے امن نہیںہوگاعملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

 

اسلام آباد(وقائع نگار)قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شدیداحتجاج اور ڈیسک بجانے سے اپوزیشن کی نشستوں پر نصب مائیک سسٹم خراب ہوگیاجس کی بحالی کے لئے قومی خزانے سے35کروڑروپے خرچ کئے جائیں گے۔اس بات کاانکشاف قومی اسمبلی کے سپیکرسردارایازصادق نے ایوان میں اپوزیشن لیڈرعمرایوب کی طرف سے اٹھائے گئے ایک نکتہ اعتراض پراپنے ریمارکس دیتے ہوئے کیاہے۔
تفصیلات کےمطابق  ایوان کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈرعمرایوب نے شکایت کیکہ اپوزیشن کی لابیز میں  سی سی ٹی وی کیمرے اورمائیک خراب ہیں ، اپوزیشن چیمبرمیں بھی کیمرے نہیں چل رہے جس پر  سپیکرایازصادق نے کہاکہ میرے چیمبرمیں بھی نہیں چل رہے،ٹھیک کررہے ہیں،جلدٹھیک ہوجائیں گے ۔اس پرعمرایوب نے کہاکہ کیایہ اتفاق ہوتاہے کہ جب اپوزیشن کے لوگ بولتے ہیں تو کیمرے خراب ہوتے ہیںاس پر ایازصادق نے اپوزیشن لیڈرسے کہاکہ آپ اپناالیکٹریشن بلالیں۔انہوںنے کہاکہ یہ اینالاک سسٹم 1994میں لگاتھا جو بجٹ کے موقع پر بے تحاشہ ڈیسک بجانے اور بجٹ دستاویزکی کاپیاں مارنے سے ہونے والے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے خراب ہوگیا،اس کے پارٹس اب دستیاب نہیں ،اسےبحال کرنے میں 35کروڑروپے کے اخراجات آئیں گے ، فی الحال ہم عارضی طورپراسے بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔واضح رہے کہ دس جون کو جب قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیاجارہاتھا اور وزیرخزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکرشدیداحتجاج کیااور بجٹ کی بکس کوڈیڑھ سے دوگھنٹے تک مسلسل ڈیسک پر مارتے رہے جس کی وجہ سے اپوزیشن نشستوں کا مائیک سسٹم خراب ہوگیااور اس کی وجہ سے بجٹ کے بعد جب قائدحزب اختلاف عمرایوب نے بحث کاآغازکیاتو سپیکر،وزراء اوراپوزیشن کے چیمبرزمیں نصب ٹی وی پر ان کی تقریرنہیں دیکھی جاسکی اب اپوزیشن کے ارکان کی جب تقریرکی بارآتی ہے تو وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر عمرایوب کی نشست پر آتے ہیں اور وہاں ایک ڈائس کے ذریعے عارضی مائیک کا اہتمام کیاگیاہے جس پر وہ آکرخطاب کرتےہیں ،اسمبلی سیکرٹریٹ کاکہناہے کہ مائیک سسٹم 1994میں لگایاگیاتھاجس کے پرزے مارکیٹ میں دستیاب نہیں اور اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ جلدسسٹم کو ٹھیک کرایاجائے۔

اسلام آباد(وقائع نگار)سابق وفاقی وزیراورتحریک انصاف کے مرکزی رہنماشہریارآفریدی نے قومی اسمبلی میں بجٹ پرعام بحث میں حصہ لیتے ہوئے تقریرکے آخرمیں فیلڈمارشل جنرل سیدعاصم منیرکی طرف سے اوورسیزپاکستانیوں کے کنونشن میں لگائے گئے اس نعرے ’’پاکستان ہمیشہ کے لئے زندہ باد‘‘کے نعرے کودہرادیاہے اور ساتھ ہی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات کو جھوٹے اور بے بنیادقراردیتے ہوئے فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیاہے،شہریارآفریدی نے اپنی تقریرکے آخرمیں چنداشعارپڑھنے کے بعد دونعرے لگائے ،ایک نعرہ پاکستان ہمیشہ کے لئے زندہ باداوردوسراعمران خان زندہ بادشامل تھے ،انہوں نے دس مئی کو بھارت کو شکست دینے پر افواج پاکستان کو بھی مبارکباد دی۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مقبوضہ بیت المقدس انہوں نے کہاکہ میں پاکستان قومی اسمبلی اسحاق ڈارنے اسلام ا باد اسرائیل پر پاکستان کے اپوزیشن کے پاکستان کی اور ایران کی طرف سے ایران کی فیک نیوز ایران نے ایران کے کے مطابق بھارت کی رہے ہیں کہاکہ ا اور اس ہے اور کے بعد کے لئے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم