نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل کشیدگی سے متعلق فیک نیوز کی بھرمار ہے اور گمراہ کن خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ایران نے پہلے حملے کے بعد کہا کہ اسرائیل اگر دوبارہ حملہ نہیں کرتا تو ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، ہم نے ایران کی بات آگے ممالک سے کی، اب بھی وقت ہے اسرائیل کو روکا جائے تو ایران مذاکرات پر تیار ہے، ہم نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات میں سہولت کاری کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور بھارت کی جنگ رکوائی، ایران و اسرائیل کے درمیان بھی جلد معاہدہ ہوگا : ڈونلڈ ٹرمپ

سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے متعلق نیتن یاہو کا پرانا بیان چلایا جارہا ہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف کا فیک کلپ بھی چلایا گیا۔ نیتن یاہو کا بیان 2011 کا بھی ہے تو ہمیں اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کرنا جرم ہے، پاکستان کا جوہری اور میزائل پروگرام ملک کی اپنی سرحدوں کے دفاع اور خطے میں استحکام کے لیے ہے۔

اسحاق ڈار نے واضح کردیا کہ پاکستان نے اسرائیل پر ایٹمی حملے سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیک نیوز سے متعلق ہمیں چیزوں کو کلیئر کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے ایران سے متصل کراسنگ پوائنٹس غیر معینہ مدت کے لیے بند

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ کوئی مذاق نہیں، ہمیں احتیاط کرنا ہوگی، بہت گمراہ کن اور غلط خبریں پھیل رہی ہیں۔ وزارت خارجہ سے متعلق فیک نیوز اور اے آئی جنریٹڈ تصویر بنائی گئی، دفتر خارجہ نے ایران-اسرائیل جنگ سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اسرائیل کی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں، پاکستان کی مسلح افواج الرٹ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار ایران ایران اسرائیل جنگ 2025.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ایران ایران اسرائیل جنگ 2025 ایران اسرائیل اسحاق ڈار فیک نیوز کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار