ایران اسرائیل کشیدگی: فیک نیوز کی بھرمار، گمراہ کن خبریں پھیلائی جارہی ہیں، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل کشیدگی سے متعلق فیک نیوز کی بھرمار ہے اور گمراہ کن خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ایران نے پہلے حملے کے بعد کہا کہ اسرائیل اگر دوبارہ حملہ نہیں کرتا تو ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، ہم نے ایران کی بات آگے ممالک سے کی، اب بھی وقت ہے اسرائیل کو روکا جائے تو ایران مذاکرات پر تیار ہے، ہم نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات میں سہولت کاری کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور بھارت کی جنگ رکوائی، ایران و اسرائیل کے درمیان بھی جلد معاہدہ ہوگا : ڈونلڈ ٹرمپ
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے متعلق نیتن یاہو کا پرانا بیان چلایا جارہا ہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف کا فیک کلپ بھی چلایا گیا۔ نیتن یاہو کا بیان 2011 کا بھی ہے تو ہمیں اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کرنا جرم ہے، پاکستان کا جوہری اور میزائل پروگرام ملک کی اپنی سرحدوں کے دفاع اور خطے میں استحکام کے لیے ہے۔
اسحاق ڈار نے واضح کردیا کہ پاکستان نے اسرائیل پر ایٹمی حملے سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیک نیوز سے متعلق ہمیں چیزوں کو کلیئر کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے ایران سے متصل کراسنگ پوائنٹس غیر معینہ مدت کے لیے بند
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ کوئی مذاق نہیں، ہمیں احتیاط کرنا ہوگی، بہت گمراہ کن اور غلط خبریں پھیل رہی ہیں۔ وزارت خارجہ سے متعلق فیک نیوز اور اے آئی جنریٹڈ تصویر بنائی گئی، دفتر خارجہ نے ایران-اسرائیل جنگ سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اسرائیل کی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں، پاکستان کی مسلح افواج الرٹ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار ایران ایران اسرائیل جنگ 2025.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ایران ایران اسرائیل جنگ 2025 ایران اسرائیل اسحاق ڈار فیک نیوز کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔