ایران کے مسلسل میزائل حملوں کے باعث اسرائیل کا اپنے شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے سار زعم خاک میں مل گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے میزائل حملے: اسرائیلی وزیردفاع شہریوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے

دی ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی شہریوں کا اپنی حکومت کی جانب سے حفاظت کے حوالے سے اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے۔

ایران کی جانب سے 3 راتوں کی مسلسل بمباری کے بعد اسرائیلی اب کسی شک و شبے میں نہیں رہے کہ ان کا مشہور میزائل دفاعی نظام ناقابل تسخیر نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے اسرائیل پر گزشتہ رات براہ راست حملوں میں اب تک کم از کم 5 مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے: چین کی ایران اور اسرائیل سے کشیدگی فوری کم کرنے کی اپیل

تشویش ناک بات یہ ہے کہ آرمی ریڈیو نے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب کے مشرق میں واقع پتاح تکوا کے رہائشی علاقے پر بیلسٹک میزائل گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 2 افراد اس وقت کسی ’محفوظ مقام‘ پر موجود تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ میزائل کا وارہیڈ 2 مضبوط کمروں کے درمیان عین اس مقام پر گرا جو کمزور تھا اور وہ دھماکے کا سامنا نہ کر سکے۔

قبل ازیں اسرائیل کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا کہ راکٹ حملوں کا شکار صرف وہی لوگ بنتے ہیں محفوظ پناہ گاہ میں نہیں گئے تھے۔ واضح رہے کہ اسرائیل اور سوئٹزر لینڈ 2 ایسے ممالک ہیں جنہوں نے اپنے ہر شہری کے لیے محفوظ پناگاہیں بنائی ہوئی ہیں تاکہ جنگ یا کسی بھی افتاد کی صورت میں وہ اس میں پناہ لے کر ’بچ سکیں‘۔

مزید پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ میں مداخلت کی تو امریکی اڈے نشانہ بنیں گے، عراقی حزب اللہ کی امریکا کو دھمکی

تاہم اب اسرائیلی شہری یہ سمجھ چکے ہیں کہ حکومت کے سارے دعوے کمزور تھے اور وہ محفوظ مقامات یا بنکرز میں بھی

ایران کے میزائلوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اسرائیلی بنکرز اسرائیلی شہری مایوس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی بنکرز اسرائیلی شہری مایوس ایران کے

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم