وزیراعظم سے یو اے ای کے وفد کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال، مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے عبداللہ نصر لوتاہ، نائب وزیر برائے کیبینٹ افیئرز فار کمپیٹیٹونس اور نالج ایکسچینج کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے اعلی سطح کے وفد نے ملاقات کی ہے۔
وفد میں پاکستان میں عرب امارات کے سفیر حمد عبید الزعابی اور گورنمنٹ نالج ایکسچینج آفس کے عبداللہ البلوکی اور ابراہیم العلی بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان معاشی تعاون کے فروغ کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس
وزیراعظم نے اپنے گزشتہ ابو ظہبی کے دورہ میں متحددہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ ملاقات انتہائی نتیجہ خیز رہی، پاک بھارت تنازع میں متحدہ عرب امارات نے پاک بھارت تناؤ میں کمی میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان نے اپنے انتظامی ڈھانچے کو بہتر کرنے کے لیے ڈیجیٹائزیشن اور پیپر لیس اکانومی جیسے اقدامات لیے ہیں، اس کے علاوہ فیس لیس کسٹم سسٹم بھی نافذ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گڈ گورننس کے حصول کے لیے حکومت پاکستان متحدہ عرب امارات کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تاکہ ان اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
شہباز شریف نے کہاکہ ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلہ سازی میں بہتری لانے کے لیے مؤثر اقدامات لیے جارہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے جدید مینیجمنٹ کے نظام سے اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا ہے، اور پاکستان متحدہ عرب امارات کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔
اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے وزیر عبداللہ نصر نے کہاکہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کے متحدہ عرب امارات کی ترقی میں اہم کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہاکہ ہم بخوشی پاکستان کے ساتھ تجربات و معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف اور عبداللہ نصر نے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک متعلقہ شعبوں میں علم اور باہمی تجربے، رہنمائی اور ترقیاتی ماڈلز کا تبادلہ کرتے ہوئے حکومتی کارکردگی کی بہتری میں تعاون کریں گے۔
اس مفاہمتی یاداشت کے تحت گڈ گورننس، ،ترقیاتی منصوبہ بندی، حکومتی شعبے کی اصلاحات، انسانی وسائل کی ترقی، شہری منصوبہ بندی، اور سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر شعوں میں تعاون شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان اور یو اے ای کا قونصلر مسائل کے بروقت حل اور مؤثر سسٹم پر اطمینان کا اظہار
تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر تجارت جام کمال اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی شریک تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews شہباز شریف ملاقات وزیراعظم پاکستان وی نیوز یادداشت پر دستخط یو اے ای وفد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف ملاقات وزیراعظم پاکستان وی نیوز یادداشت پر دستخط یو اے ای وفد متحدہ عرب امارات کے شہباز شریف نے کہاکہ یو اے ای کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ