متعدد ایوارڈز جیتنے والی آرٹسٹ حنا پروین نے اپنی معذوری کو کیسے ہرایا؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان کی بی ایس کی طالبہ حنا یاسمین جو ہاتھوں کی معذوری کے باوجود شاہکار تخلیق کرتی ہیں متعدد آرٹ اور پینٹنگز کے علاقائی اور ملکی سطح پر مقابلوں میں ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دونوں ہاتھوں سے محروم ارشد علی ہزاروں معذور افراد کا مسیحا کیسے بنا؟
حنا یاسمین کہتی ہیں کہ ابتدا میں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی معذوری اور زبان میں لکنت سے انہیں شدید مایوسی ہوا کرتی تھی اور ان کی طبیعت میں چڑچڑا پن رہتا تھا لیکن رفتہ رفتہ آرٹ اور پینٹنگز کی جانب میلان نے ان کے مزاج پر مثبت اور خوشگوار اثرات ڈالے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا اور انہوں نے مقامی سطح پر ہونے والے متعدد آرٹ مقابلوں میں حصہ لیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر انہیں جب پہلا ایوارڈ ملا تو اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
مزید پڑھیے: سینکڑوں ذہنی معذور بچوں کے لیے ’چمبیلی‘ نام کا ادارہ کیسے کام کرتا ہے؟
والد کا سایا نہ ہونے کے باوجود حنا یاسمین نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ پینٹنگز بنا کر فروخت کرنے سے ان کی اچھی خاصی پاکٹ منی بھی بن جاتی ہے۔
حنا کا کہنا ہے کہ کوئی بھی معذوری اس وقت تک معذوری رہتی ہے جب تک کہ وہ آپ کے دماغ میں ہے اگر آپ اس معذوری کی بجائے اپنے اندر چھپی خداداد صلاحیتوں پر فوکس کر کے کام کریں تو وہ معذوری معذوری نہیں لگتی۔
مزید پڑھیں: پولیس کانسٹیبل عائشہ جنہوں نے محنت سے معذوری کو شکست دےدی
ان کا خواب ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی جیسی لڑکیوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھا کر معاشرے میں قابل عزت مقام دلانے میں اپنا کردار ادا کریں اور یہی ان کی زندگی کا اولین مقصد ہے۔ مزید تفصیل جانیے نصرت گنڈاپور کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حنا یاسمین ڈیرہ اسماعیل خان معذور آرٹسٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حنا یاسمین ڈیرہ اسماعیل خان حنا یاسمین
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔