سینیٹ اجلاس ، وزیرمملکت عون چودھری اور پی ٹی آئی رکن میں تلخ کلامی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت)سینیٹ میں ہونے والے بجٹ پر بحث سے متعلق اجلاس میں وزیرمملکت عون چودھری اور پی ٹی آئی کے سینیٹر شفقت عباس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔ وزیر مملکت عون چودھری نے بجٹ بحث پر اظہارخیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر کو اخلاقیات کا درس دیا اور انہیں حد میں رہ کر بات کرنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی آپ میں سے آدھے لوگوں کو نام سے بھی نہیں جانتا ہوگا، بات کریں تنقید کریں لیکن اخلاقیات سے بات کریں۔ عون چودھری نے کہا کہ ہاں آپ کریں چاپلوسی، تاکہ بانی پی ٹی آئی بولے یہ کون ہے نام بتاؤ یہ اچھا لگا مجھے، آپ ایوان میں عزت سے بجٹ پر بات کریں لیکن آپ صرف اس لیے چھلانگیں مارتے ہیں کہ عمران خان آپ کو دیکھ لے۔وزیرمملکت نے کہا کہ اس ایوان میں ہماری بہنیں، عورتیں بیٹھتی ہیں لہذا احترام سے بات کریں، پاکستان کی بات کریں پاکستان کا سوچیں گے تو ہم آپ کے ایشوز پر آپ کا ساتھ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ پاکستان کی سالمیت کیخلاف بات کریں اور ملک توڑنے کی کوششیں کریں گے تو پھر یہ ہمیں برداشت نہیں ہوگا، ہم نہیں چاہتے دشمن ہمارا تماشہ دیکھے، ہم ملک کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عون چودھری پی ٹی ا ئی نے کہا کہ بات کریں
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔