حکومت نے بجٹ میں کراچی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا‘صلاح الدین
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر)تحریک ِحقوق کراچی کے صدر سید صلاح الدین اختر نے وفاق اور سندھ کے بجٹ میں کراچی کو یکسر انداز کئے جانے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کے فور سمیت دیگر کئی منصوبے زیرالتواء ہیں حکومت نے بجٹ میں ان کے لیے معمولی رقم رکھی ہے جس سے یہ منصوبے وقت پر مکمل نہیں ہوسکے گے۔اس کے علاوہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلیے بھی معمولی اضافہ کیا گیا ہے ۔کراچی میں کسی نئے پروجیکٹ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے جس سے کراچی کی عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے ۔انھوں نے کہا کہ کراچی کے عوام بنیادی مسائل سے دوچار ہیں ۔سندھ حکومت کراچی کے حقوق پر ڈاکہ مار رہی ہے ۔سندھ حکومت کو 98فیصد بجٹ میں ریونیو ادا کرنے والا شہر پانی ،بجلی کو ترس رہا ہے ۔سندھ حکومت نے عروس البلادشہر کراچی کو جہنم بنادیا ہے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔حکومت اس شہر سے اربوں روپئے ٹیکس تو وصول کررہی ہے لیکن یہاں کی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام میں نفرت کا لاواک رہا ہے ۔انھوں نے کہا کہ تحریک ِحقوق کراچی عوام کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور ہم بھرپور قوت کے ساتھ کراچی کے حقوق کے لیے جدوجہد کرینگے اور کراچی کے حقوق اب چھین کر لیے جائینگے ۔بجٹ میں کراچی کو نظر انداز کئے جانے حکومت کی متعصبانہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی کے کراچی کو کے حقوق
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔