پینشن کا حجم ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہے، پینشن فنڈ پر ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
وفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ میں پنشن کیلئے فنڈز کا حجم ایک ٹریلین روپے سے تجاوزکرگیا ہے جو ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہے، بجٹ میں 10ملین روپے سے زیادہ پینشن پر 5 فیصد ٹیکس کی تجویزدی گئی ہے۔
سیکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ خطہ میں کشیدگی کی صورتحال اوراس ملک پراس کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالہ سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز اس حوالہ سے تمام شراکت داروں کے ساتھ ہماری مفیدبات چیت ہوئی ہے، اس کا مقصد توانائی کے معقول ذخائراوران کی قیمتوں کی نگرانی کویقینی بناناہے، حکومت صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیارہے، ہمیں امیدہے کہ صورتحال میں بہتری آئیگی۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ گزشتہ رات ان کی امریکی وزیرتجارت سے مفید بات چیت ہوئی ہے، دونوں ممالک درست سمت میں اقدامات اٹھارہے ہیں، امریکی ٹیرف کے حوالہ سے پاکستان ایک مسابقتی مارکیٹ ہے، دونوں ممالک تزویراتی شراکت دارہیں۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پرپائیداربنیادوں پرعمل درآمدکیا جائیگا، ٹیکس، ایس اوایز اورتوانائی سمیت قومی معیشت کے اہم شعبوں میں اصلاحات کاعمل جاری رہے گا۔
سرکاری اخراجات میں کمی اورقرضوں کے منظم انتظام وانصرام کئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں، پنشن سمیت دیگرشعبوں میں اصلاحات کاعمل جاری ہے اورہمیں اسے آگے بڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پنشن کیلئے فنڈز کا حجم ایک ٹریلین روپے سے تجاوزکرگیا ہے جو ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہے، ہمیں دیگرشعبوں کیلئے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، بجٹ میں 10ملین روپے سے زیادہ پینشن پر 5 فیصد ٹیکس کی تجویزدی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اورپنشن کنٹری بیوشن کے حوالہ سے بالترتیب سندھ اورخیبرپختونخوا کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات بنیادی تبدیلیاں ہے،اس سے بعض صنعتیں متاثرتوہوں گی جس کیلئے وزیراعظم نے کمیٹی بنائی ہے جس میں تمام متعلقہ شراکت دارشامل ہیں، کمیٹی تبدیلیوں کے عمل میں معاونت فراہم کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیرخزانہ نے کہا کہ حوالہ سے سے زیادہ روپے سے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔