اسرائیل ایرانی جوہری پروگرام کو تباہ نہیں کر سکتا، بی بی سی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق اسرائیل امریکہ سے سالانہ اربوں ڈالر کی عسکری امداد لیتا ہے اور امریکی ساختہ لڑاکا طیاروں سے داغا جانے والا اسلحہ بھی امریکہ سے ہی آیا ہے۔ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم سے داغے جانے والے چند میزائل بھی امریکی ساختہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کو اس تنازع میں برتری حاصل ہے لیکن اس کی مذید عسکری کارروائی کا انحصار امریکہ کی حمایت پر ہو گا۔ اسرائیل امریکہ سے سالانہ اربوں ڈالر کی عسکری امداد لیتا ہے اور امریکی ساختہ لڑاکا طیاروں سے داغا جانے والا اسلحہ بھی امریکہ سے ہی آیا ہے۔ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم سے داغے جانے والے چند میزائل بھی امریکی ساختہ ہیں۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے زیرزمین ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے جو بنکر بسٹر بم استعمال کیے وہ بھی زیادہ تر امریکی ساختہ ہیں۔ اب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے استعمال کی حمایت کی ہے لیکن اسرائیل کو وہ ہتھیار فراہم نہیں کیا گیا جس کی مدد سے وہ فردو میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا سکے۔ یہ بم 30 ہزار پاونڈ وزنی ہے جسے صرف امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کی مدد سے ہی پھینکا جا سکتا ہے۔
تاہم اگر اسرائیل کو امریکی مدد حاصل بھی رہے تو اسے اپنے مقاصد کے حصول میں مکمل کامیابی شاید نہ مل سکے۔ وہ اپنی فضائی طاقت سے ایرانی جوہری پروگرام کو متاثر تو کر سکتا ہے لیکن اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتا۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی حکومت میں تبدیلی کی امید پوری ہونا بھی ناممکن ہے۔ ایسے میں اسرائیلی فضائی کارروائیاں خوف، تباہی اور ملبہ تو پیدا کر سکتی ہیں لیکن 2011 میں لیبیا اور حالیہ غزہ کی پٹی میں ہونے والی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مکمل کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی ساختہ ایرانی جوہری امریکہ سے
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔