مریم نواز کے کندھے میں تکلیف، ایم آر آئی کیلئے میو اسپتال پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کندھے کی تکلیف کے باعث لاہور کے تاریخی میو اسپتال پہنچ گئیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کو گزشتہ کچھ دنوں سے کندھے میں شدید درد کی شکایت تھی، جس کے بعد انہیں معائنے کے لیے اسپتال لایا گیا۔ میڈیکل ٹیم نے ان کا ایم آر آئی اسکین کیا اور مکمل طبی جانچ کے بعد ادویات تجویز کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کسی پروٹوکول یا خصوصی رعایت کے بغیر عام مریضوں کی طرح اپنی پرچی خود بنوائی۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے پرائیویٹ اسپتال جانے کی بجائے سرکاری اسپتال پر اعتماد کرتے ہوئے میو اسپتال کا انتخاب کیا، ان کے ہمراہ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔
طبی مشاورت اور ادویات کے بعد مریم نواز مختصر قیام کے بعد اسپتال سے روانہ ہو گئیں، جب کہ اسپتال عملہ اور عام مریض ان کی سادگی اور عوامی انداز پر حیران نظر آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔