پنجاب میں ترقیاتی کاموں سے متعلق ایک مثال قائم کی گئی: مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب میں ترقیاتی کاموں سے متعلق ایک مثال قائم کی گئی۔
لاہور میں وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کے ساتھ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ اسکیم کا دوبارہ اجرا کیا گیا، اب ہم ای ٹینڈرنگ پر جا رہے ہیں، ہمارا مقصد لیکجز اور کرپشن پر قابو پانا ہے، یہ سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ ہے، اس مرتبہ بجٹ کا حجم 1240 ارب ہے، گزشتہ برس 842 ارب تھا۔
مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب کے بجٹ کا مجموعی حجم 5335 ارب روپے ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید جدید بنا رہے ہیں، ٹرانسپورٹ نظام کے لیے بجٹ میں خطیر رقم مختص کی گئی ہے، صوبے میں ترقیاتی کاموں سے متعلق ایک مثال قائم کی گئی، اسپیشل ایجوکیشن کے شعبے کے لیے پچھلے سال کی نسبت زیادہ رقم رکھی ہے، سرکاری اسکولوں میں نیوٹریشن پروگرام کا دائرہ مزید بڑھایا جائے گا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مجتبی شجاع الرحمٰن نے کہا کہ ہمارا ٹیکس ریونیو 469 ارب روپے ہے، اس سال بھی ٹیکس فری بجٹ دے رہے ہیں، پنجاب ریوینیو اتھارٹی 6 اضلاع میں تھی، 16 اضلاع تک لے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال پنجاب ریوینیو اتھارٹی کو 28 اضلاع تک لے جائیں گے، ٹیکس نظام میں کرپشن کا خاتمہ کر رہے ہیں، کمپیوٹرائزڈ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن کے شدید احتجاج میں پنجاب کا 53 کھرب 35 ارب کا بجٹ پیش کیا گیا تھا۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے مالی سال 26-2025ء کے لیے صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا تھا۔
پنجاب میں کم از کم اجرت 37 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز بھی بجٹ تقریر کا حصہ ہے۔
پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن میں 5 فیصد اضافہ بجٹ تجاویز میں شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب نے کہا کہ رہے ہیں کی گئی کے لیے
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔