اسرائیل کے ایران پر بڑھتے ہوئے حملے ہر ایک کے لئے خطرہ ہیں،فرمانروااردن
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
سٹراسبرگ: اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر بڑھتے ہوئے حملے ہر ایک کے لیے خطرہ ہیں۔
فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں یورپین پارلیمنٹ سے خطاب میں شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جنگ کسی انتہا پر جا کر ختم ہو گی، ایران پر حملوں سے ہمارے خطے اور اس سے باہر خطرناک حد تک کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ا گر ہماری عالمی برادری فیصلہ کن طور پر کام کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ہم انسان کی تعریف ازسر نو لکھ رہے ہوں گے۔ اگر اسرائیلی بُلڈوزر غیرقانونی طور پر فلسطینیوں کے گھروں، زیتون کے درختوں اور تنصیبات کو مسمار کرتے رہے، تو ایک دن وہ اخلاقی بنیادوں کو بھی چپٹا کر دیں گے۔
اردن کے فرمانروا نے نے ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت اور فلسطینیوں کو آزادی اور ریاست کا حق دینے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سلامتی کو اس وقت تک یقینی نہیں بنایا جا سکتا جب تک عالمی برادری یوکرین میں تین سالہ جنگ اور آٹھ دہائیوں سے جاری دنیا کے سب سے طویل اور تباہ کن فلسطینی اسرائیلی تنازع کو ختم کرنے کے لیے کام نہیں کرتی۔
شاہ عبداللہ دوم نے غزہ میں بین الاقوامی قانون اور (عالمی برادری کی) مداخلت کی ناکامی کا حوالہ دیا اور کہا کہ 20 ماہ قبل جو ظلم سمجھا جاتا تھا وہ اب معمول بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی ناکامی کے بعد بچوں کے خلاف قحط کا بطور ہتھیار استعمال، طبی عملے، صحافیوں اور بچوں کو نشانہ بنانا سب معمول بن گیا ہے۔‘
اردن کے فرمانروا نے کہا کہ یہ تنازع ختم ہونا چاہیے اور اس کا حل بین الاقوامی قانون میں ہے۔ امن کے راستے پر پہلے بھی چل چکے ہیں اور اگر ہم اس کو منتخب کرنے کی ہمت اور ساتھ چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس پر دوبارہ چلا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔