فتاح میزائلوں نے اسرائیلی فضائی حدود کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایرو اسپیس فورس کی طرف سے ڈرون اور میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع ہوئی ہے جس میں اسرائیل کے اندر اہم اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے, جن میں میزائل اور ڈرونز دونوں شامل تھے اور ان کا ہدف مقبوضہ فلسطینی علاقے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی جانب سے اسرائیل پر رات گئے یکے بعد دیگرے میزائل حملے کیے گئے جس کے بعد اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا جب کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم کئی میزائل روکنے میں ناکام ہوگیا۔ ایرانی مسلح افواج نے آپریشن وعدۂ صادق 3 کے 10ویں اور 11ویں مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کردی، اسرائیل کے اہم اور اسٹریٹجک اہداف پر متعدد بیلسٹک میزائل داغےگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے مزید میزائل داغے گئے ہیں جس کے بعد ائیرڈیفنس سسٹم کو فعال کردیا گیا ہے۔
تاہم پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فتاح میزائلوں کی پہلی نسل نے اسرائیلی فضائی حدود کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور اسرائیلی ائیرڈیفنس کا نظام ایران کے فتح میزائلوں کو روکنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان نے اسرائیلی شہریوں کو تل ابیب اور مضافاتی علاقے خالی کرنے کی نئی وارننگ بھی دے دی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق منگل کی شام فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی جانب میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی تعداد داغی گئی۔ یہ نیا مرحلہ 13 جون سے جاری 9 پچھلے مراحل کے بعد شروع ہوا ہے، جنہوں نے قابض صہیونی حکومت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس کی طرف سے ڈرون اور میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع ہوئی ہے جس میں اسرائیل کے اندر اہم اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے, جن میں میزائل اور ڈرونز دونوں شامل تھے اور ان کا ہدف مقبوضہ فلسطینی علاقے تھے۔ اس جوابی حملے کی تازہ لہر میں اسرائیلی فضائیہ کے اڈوں کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا گیا، جہاں سے ایران پر حملے کرنے والے جنگی طیارے روانہ ہوتے ہیں۔ خیال رہے کہ آپریشن وعدہ صادق 3 جمعہ کی رات کو یا علیؑ ابن ابی طالب کے کوڈ سے شروع ہوا تھا۔ یہ کارروائی اسرائیلی حملوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، ایٹمی سائنسدانوں، اور خواتین و بچوں سمیت عام شہریوں کے شہید ہونے کے ردعمل میں کی جا رہی ہے۔
ایرانی کی جوابی کارروائی کا 10واں اور ساتھ ہی11واں مرحلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اس سے کم از کم 24 گھنٹے قبل بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی ایک زبردست لہر نے اسرائیل کے مختلف حصوں میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔ پہلے 9 مراحل میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد، اسرائیلی حکام نے پیر کے روز ایرانی حملوں کی فضائی لائیو کوریج پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس سے قبل، آج صبح ایرانی افواج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں دشمن کے 28 مختلف طیاروں کو شناخت کرنے، روکنے اور مار گرانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے، جو کہ ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی کا مظہر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاسداران انقلاب اسرائیلی فضائی نشانہ بنایا اسرائیل کے نے اسرائیل اور ڈرونز کی جانب کے بعد
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی