اسرائیل سوشل میڈیا ایپس سے لوکیشن جان کر نشانہ بنا رہا ہے؛ شہری احتیاط کریں؛ ایران
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ایران کی حکومت نے اپنے شہریوں کو وارننگ دی ہے کہ فوری طور پر واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور دیگر "لوکیشن بیسڈ" موبائل ایپس کا استعمال بند کر دیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ انتباہ اسرائیل کی حالیہ "ٹارگٹ کلنگ‘‘ کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں ایٹمی سائنسدانوں سمیت اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایران میں اہم افراد کو نشانہ بنانے کے لیے موبائل فون ٹریکنگ کا استعمال کر رہی ہے، اور یہی اس کے اہم ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔
ایرانی حکام نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی نئے مقام پر جانے سے قبل اپنے موبائل فون بند کر دیں اور ان موبائلز کو اپنے ساتھ لے کر مت جائیں۔
ایرانی حکومت کے بیان میں بالخصوص سیکیورٹی اور حساس اداروں کے اہلکاروں کو خبردار کیا ہے کہ صرف اور صرف محفوظ ٹیلی کمیونیکیشن لائنز استعمال کریں اور غیر محفوظ سافٹ ویئر سے پرہیز کریں۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے حملہ کرکے ایران میں ایٹمی سائنسدانوں اور ٹاپ رینک ملٹری لیڈرشپ کو نشانہ بنایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔