ہم صیہونیوں پر کوئی رحم نہیں کریں گے: آیت اللہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف سخت جوابی کارروائی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ایران صیہونی حکومت کو سخت جواب دے گا اور ان پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر انگریزی زبان میں کیے گئے اپنے پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ہمیں دہشت گرد صیہونی حکومت کو ایک طاقتور جواب دینا ہوگا۔انہوں نے مزید لکھا کہ ہم صیہونیوں پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی دھمکیوں کے باوجود سامنے آیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران اسرائیلی حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں سپریم لیڈر کا یہ بیان تہران کی جانب سے کسی بھی مزید حملے کی صورت میں سخت ردعمل کا عندیہ دیتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے آپریشن صادق سوم کی 10ویں لہر کا آغاز ہوچکا ہے جس سے اسرائیلی ایئر بیسز پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا جبکہ 13 جون سے اب تک ایرانی میزائل حملوں میں 14 اسرائلی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔