سانحہ چلاس: جاں بحق 3 سالہ عبدالہادی کی لودھراں میں نمازِ جنازہ ادا، والدہ کے پہلو میں تدفین
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
سانحہ چلاس میں جاں بحق ہونے والی ڈاکٹر مشعل فاطمہ کے تین سالہ بیٹے عبدالہادی کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ عبدالہادی کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ اپنی والدہ کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ سانحے میں زخمی ڈاکٹر سعد زیرِعلاج ہیں۔سانحہ چلاس میں جاں بحق ہونے والی ڈاکٹر مشعل فاطمہ کے تین سالہ عبدالہادی کی لودھراں میں نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ غم کی اس فضا میں نماز جنازہ میں والد ڈاکٹر سعد اسلام، اہم سیاسی و سماجی شخصیات اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔معصوم عبدالہادی اپنی والدہ ڈاکٹر مشعل فاطمہ اور چچا کے ہمراہ سانحہ چلاس میں جاں بحق ہوا تھا۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی، ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ شہریوں نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔تین سالہ عبدالہادی کو لودھراں کے مقامی قبرستان نمبر1 میں اپنی ماں کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا.
واضح رہے کہ بابوسرٹاپ پر کلاؤڈ برسٹ کے باعث یہ دلخراش سانحہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا جب لودھراں سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان اسکردو سے واپسی پر بابوسر ٹاپ کے مقام پر اچانک آنے والے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا۔خونی پانی کے ریلے نے کوسٹر میں سوار خاندان کے افراد کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ اس المناک واقعے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ، ان کا دیور فہد اسلام اور 3 سالہ عبدالہادی جاں بحق ہو گئے جبکہ خاندان کے کئی افراد تاحال لاپتا ہیں۔ڈاکٹر مشعال کے تین سالہ بیٹے عبدالہادی کی لاش تین روز بعد ملی۔ تین سالہ بچے ہادی کی میت بھی چلاس سے لودھراں پہنچائی گئیی۔ جاں بحق ڈاکٹرمشعل فاطمہ اور ان کے دیور کو گذشتہ روز لودھراں میں سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ معروف عالم دین ڈاکٹر حامد سعید قادری نے پڑھائی۔ دونوں میتوں کی تدفین قبرستان نمبر ایک میں کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عبدالہادی کی لودھراں میں سانحہ چلاس تین سالہ
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔