سابق وفاقی وزیر کیخلاف موٹر سائیکل چوری کا مقدمہ سیشن کورٹ منتقل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
فائل فوٹو
سابق وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی کے خلاف موٹر سائیکل چوری کا مقدمہ ڈوکری کی عدالت کے بعد سیشن کورٹ بھیج دیا گیا۔
سیشن جج نے مقدمے کی سماعت کے لیے ایڈیشنل سیشن جج کو نامزد کر دیا۔
بعدازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت 18 اگست تک ملتوی کردی۔
اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر مرتضیٰ جتوئی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی انتقام کے طور پر میرے خلاف 13 مضحکہ خیز مقدمات درج کروائے ہیں جن میں موٹر سائیکل چوری، پیٹرول پمپ سے 3 ہزار روپے کی ڈکیتی اور بکری چوری سمیت دیگر مقدمات شامل ہیں۔
مرتضیٰ جتوئی نے کہا ہے کہ 2008 ء سے پیپلز پارٹی سندھ میں ایک مافیا بن کر ابھری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز