پنجاب میں صارف عدالتیں ختم، اختیارات سیشن کورٹس کو منتقل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
پنجاب کے 17 اضلاع میں قائم صارف عدالتوں کو ختم کر دیا گیا، کیس سیشن کورٹس منتقل ہوں گے جبکہ صارف عدالتوں کے ججز کو لاہور ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں صارف عدالتوں کے کیس متعلقہ سیشن کورٹس کو منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2025ء میں ترمیم کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے حکم نامہ جاری کیا ہے، چیف جسٹس عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشل نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق سیشن ججز، ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کورٹس کے کیسز سننے کا اختیار حاصل ہے، ہر ضلع کا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کنزیومر کورٹس کا انتظامی جج ہوگا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو کنزیومر کورٹس کے نئے کیسز کے حوالے سے اختیار حاصل ہوگا، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو پرانی کنزیومر کورٹس میں چلنے والے کیسز کے حوالے سے بھی اختیار حاصل ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی کے دور میں صارفین کے تحفظ کے لیے ابتدائی مرحلے میں پنجاب میں 11صارف عدالتیں 2007میں قائم کی گئی تھیں، بعد میں ان عدالتوں کی تعداد بڑھا کر 17کردی گئی لیکن موجودہ مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت نے ان عدالتوں کو قومی خزانہ پر بوجھ قرار دیتے ہوئے قانون میں ترمیم کے ذریعے ختم کردیا ہے۔پنجاب کے 17اضلاع لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین ، گجرات ، روالپنڈی، سرگودھا، فیص ا?باد ، میانوالی ، لیہ ، بھکر ، ملتان، بہاولپور ، ڈی جی خان ، رحیم یار خان ، ساہیوال میں عدالتیں قائم تھیں، صارفین کے کیسز کی سماعت اب سیشن عدالتوں میں ہوگی۔کنزیومر کورٹس سیالکوٹ کے جج شمشاد علی رانا، گوجرانوالہ کے جج محمد مظہر سلیم، سرگودھا کے جج عمران رضا نقوی کو بھی ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کنزیومر کورٹس ججز کو
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔