وزیرِ مملکت برائے قومی ثقافت و ورثہ حذیفہ رحمان نے سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حوالے سے بڑا دعویٰ کر دیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے خود حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اگر کوئی ڈیل ہونی ہے تو انہیں برطانیہ یا کسی یورپی ملک میں بھیج دیا جائے۔

بانی پی ٹی آئی نے ہم سے بات کی، ہم نے اور اسٹیبلمنٹ نے ظرف کا مظاہرہ کیا، اور ہم نے یہ بات آج تک نہیں بتائی، بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا، اگر مجھ سے ڈیل کرنی ہے تو مجھے برطانیہ یا یورپ بھیج دیں، اور برطانیہ گورنمنٹ نے آفیشلی اس بات کو کہا کہ ٹھیک ہے ہمارے حوالے کریں، اُس کے بعد ہم… pic.

twitter.com/vm7me0nZNG

— Huzaifa Rehman (@HuzaifaRehman_) August 2, 2025

نجی ٹیلیویژن کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے کہا کہ ہم نے ظرف کا مظاہرہ کیا اور یہ بات آج تک عوام سے چھپائے رکھی، لیکن اب سچ بتانا ضروری ہو گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے ہم سے بات کی۔

انہوں نے کہا اگر ڈیل کرنی ہے تو مجھے برطانیہ یا یورپ بھیج دیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی مدد کے لیے ہم اسوقت صرف امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں، قاسم خان کا انٹرویو

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر برطانوی حکومت نے بھی باضابطہ آمادگی ظاہر کی تھی کہ اگر عمران خان کو ان کے حوالے کیا جائے تو وہ تیار ہیں۔ تاہم حکومت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ نے یہ تجویز مسترد کر دی۔

وزیرِ مملکت کے مطابق ہم نے صاف طور پر کہا کہ ہم آپ کو یورپ یا برطانیہ نہیں بھیج سکتے، اگر جانا ہے تو گلف کے کسی ملک کا انتخاب کریں۔

حذیفہ رحمان کے مطابق یہ متبادل پیش کیا گیا، جسے بانی پی ٹی آئی نے ٹھکرا دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اسے جلاوطنی کی کوشش قرار دے کر عوام کے سامنے پیش کیا۔

حذیفہ رحمان نے مزید کہا کہ اس پوری گفتگو کے ثبوت اور ریکارڈنگ موجود ہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو انہیں منظرِ عام پر لایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان نے اپنے بیٹوں کو پاکستان آنے سے روک دیا

انہوں نے کہا کہ ہم نے خاموشی اختیار کی تھی، لیکن بانی پی ٹی آئی کے مسلسل بیانیے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوششوں کے بعد اب حقائق بیان کرنا ضروری ہو چکا ہے۔

اس بیان پر پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی نے حذیفہ رحمان انہوں نے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان