اداکارہ ایمان خان کیساتھ لڑکا کون؟ قربتیں بڑھنے لگیں، مداح کشمکش میں مبتلا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
کراچی(شوبز ڈیسک) پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ ایمان خان کیساتھ نظر آنے والے شخص نے انٹرنیٹ صارفین کو کشمکش میں مبتلا کردیا۔
ڈراما سیریل ’دمسہ’ میں اپنے کردار دمسہ سے لاکھوں دلوں کو جیتنے والی ایمان خان اپنی بہن و اداکارہ لائبہ کی طرح کی انڈسٹری میں خاصی سرگرم ہیں۔
ایمان نے اپنے مختصر سے کرئیر میں کئی ڈراموں میں کام کیا ہے، جن میں ’کچھ ان کہی’ سمیت کئی دیگر نام شامل ہیں جبکہ انہیں اب ڈراموں سے زیادہ سوشل میڈیا پر ایکٹو دیکھا جاتا ہے جہاں وہ اپنی دلچسپ پوسٹس اور ریلز کے سبب تعریفوں کا محور بنی رہتی ہیں۔
تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ ایمان خان نے کم عمر میں ہی زندگی کے نئے باب کا آغاز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جسکا ثبوت سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر ہیں۔
حال ہی میں نواب زادہ تیمور راحیل نامی ایک شخص نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایمان خان کے ساتھ کچھ تصاویر شیئر کیں ہیں۔
ان جھلکیوں کو شیئر کرتے ہوئے مذکورہ صارف نے کیپشن میں بھڑکتی آگ میں تیل چھڑکنے کا کام کرتے ہوئے لکھا کہ،’تم ہی میرا دل، میری زندگی اور میری واحد سوچ ہو۔‘
View this post on InstagramA post shared by Nawabzada Taimoor khan (@taimoorraheel__)
جبکہ ایک اور ریلز میں ایمان اور تیمور کی قربتیں بھی انکے تعلق کو چیخ چیخ کر بیان کررہی تھیں۔ اس ریلز کیساتھ تیمور نامی مسٹری مین نے بنا کچھ لکھے دنیا اورسرخ دل والا اموجی بھی لگایا۔
جبکہ ریلز میں ایمان اور تیمور کی بڑھتی نزدیکیاں ہر دیکھنے والوں کو محسوس ہوئیں۔
اور پھر دیکھا جائے تو ایمان خان کی جانب سے تاحال تیمور راحیل کے ساتھ کوئی تصویر یا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ تاہم، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایمان خان کسی خاص رشتے میں ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایمان خان
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔