امیر جماعت اسلامی سندھ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی گئی ہیں مگر ان کا کردار زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے، بازاروں میں گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت معمول بن چکی ہے، انتظامیہ کی جانب سے چھاپے اور جرمانے میڈیا کی حد تک محدود ہیں جب کہ عملاً دکان دار من مانی قیمتیں ہی وصول کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ملک میں مہنگائی میں کمی کے دعووں کے باوجود گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں رکارڈ اضافہ نااہلی اور ناکام معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، عام آدمی کمر توڑ مہنگائی، بدامنی بجلی و گیس کے بھاری بلوں سے پریشان ہے تو دوسری جانب حکومتی وزراء سب کچھ ٹھیک اور بہتری کے جھوٹے بیانات جاری کر رہے ہیں جو کہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، حکومت مہنگائی بدامنی و بیروزگاری کے خاتمے اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے کرپشن فری سنجیدہ اقدامات کرے، یوتھ اور عوامی کمیٹیوں کے ذریعے جماعت اسلامی عوام کے مسائل کے حل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے، ذمے داران نوجوانوں کو فعال اور عوامی کمیٹیاں بنانے کا عمل تیز کردیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد ڈویژن کے ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا جس میں ضلعی امراء،قیمین اور یوتھ کے ضلعی صدور شریک تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف پیٹرول قیمتوں میں معمولی کمی کرکے دوسری طرف حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پیٹرولم لیوی میں 2 روپے 50 پیسے اضافہ کیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 74 روپے 51 پیسے سے بڑھا کر 77 روپے ایک پیسے کردی گئی ہے، اسی طرح اب پیٹرول پر لیوی 75 روپے 52 پیسے سے بڑھا کر 78 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، ایک ہاتھ سے دینے اور دوسرے سے لینے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔ صوبائی امیر نے کہا کہ چینی سے لیکر دالیں، آٹا، گھی، سبزیاں، گوشت اور دودھ جیسی بنیادی اشیا کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے  ایک عام شہری کی قوت خرید اس حد تک متاثر ہوچکی ہے کہ لوگ اپنا معیار زندگی نیچے لانے پر مجبور ہو کر کھانے پینے کی اشیا کم کرنا شروع کر چکے ہیں، عوام کے لیے ایک وقت کا پیٹ بھر کھانا بھی ایک چیلنج کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا

پڑھیں:

پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی

اپر دیر:

سیاحتی مقام کمراٹ میں برف پگھلنے سے دریا کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہونے لگا جو کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

سیاحتی مقام وادی کمراٹ کی بائی پاس سڑک دریا کے پانی میں بہہ گئی تاہم گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے۔

وادی کمراٹ بائی پاس روڈ پر پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار بہہ گیا تاہم مقامی افراد اور امدادی ٹیموں نے موٹر سائیکل سوار کو بچایا لیا جبکہ موٹر سائیکل پانی میں لاپتا ہوگئی۔

دوسری جانب، پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز آندھی اور بارش کے باعث آسمانی بجلی اور  گھروں کی دیواریں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو مرد جبکہ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔

حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور آپس میں قریبی رابطہ میں ہیں۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی معلومات، آگاہی یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔

متعلقہ مضامین

  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور