جوئے کی تشہیر؛ ہربھجن، رائنا، یوراج، اروشی بڑی مشکل میں پھنس گئے
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
سابق بھارتی کرکٹرز یوراج سنگھ، سریش رائنا، ہربھجن سنگھ اور بالی ووڈ اداکارہ اروشی روٹیلا کو جوئے کو فروغ دینے کا الزام میں سیکیورٹی حکام نے پوچھ گچھ کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) بھارت کے تین سابق کرکٹرز کے ساتھ ساتھ بالی ووڈ اداکارہ اروشی روٹیلا سے بھی تفتیش کی جبکہ ہربھجن اور رائنا مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔
بالی ووڈ اداکارہ سمیت تینوں کرکٹرز پر آن لائن جوئے کی تشہیر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: رنکو سنگھ کے بعد ایک اور بھارتی کرکٹر نے بچپن کی دوست سے منگنی کرلی
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کچھ پلیٹ فارمز جیسے ممنوعہ ناموں کا استعمال کررہے تھے، یہ پلیٹ فارمز صارفین کو غیرقانونی سٹہ بازی پلیٹ فارم پر ری ڈائرکٹ کرتے تھے جو کہ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یوراج سنگھ، ہربھجن سنگھ اور سریش رائنا نے بھی پلیٹ فارم کا اشتہار کیا تھا، جس کے باعث بھارتی حکام کے تفتیش کے دائرے میں آگئے۔
مزید پڑھیں: کوہلی کا ایک لائیک؛ اونیت کی برانڈ ویلیو 30 فیصد بڑھا گیا
دوسری جانب یوراج سنگھ اور سریش رائنا کے قریبی حلقوں نے اس خبر پر ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کردیا ہے، اس کے علاوہ اروشی روٹیلا اور سونو سود سمیت بالی ووڈ کے کئی دیگر مشہور اداکار بھی اس پلیٹ فارم سے جڑے ہیں۔
مزید پڑھیں: "میری ناکامی پر لوگوں نے آٹو رکشہ ڈرائیور کا بیٹا کہہ کر پُکارا"
تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ جوئے کو پرموٹ کرنے والی کمپنی نے اپنی تشہیر پر 50 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم خرچ کی ہے۔
اس رقم کو زیادہ تر بالی ووڈ اداکاروں، کرکٹرز پر لگایا گیا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر انکے فالوورز کو زیادہ سے زیادہ اپنی طرف راغب کیا جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔