پاکستان کا افغان مہاجرین کے انخلا کا نیا حکم، ویزا کے بغیر افغان گاڑیوں کا داخلہ بند
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
کوئٹہ میں غیرقانونی افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز صوبے میں موجود پی او آر کارڈ ہولڈر افغان شہریوں کو فوری طور پر پاکستان چھوڑنے اور وطن واپس جانے کی ہدایت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان نے ملک کے جنوب مغربی علاقوں میں مقیم افغان باشندوں کو ملک چھوڑنے کیلئے ایک نیا حکم جاری کیا ہے، جس کے بعد ہزاروں افغان شہری چمن سرحد کی جانب روانہ ہو گئے ۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ”اے ایف پی” نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغان مہاجرین کے انخلا کی اس تازہ مہم کا مقصد غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کو ایک باوقار اور منظم طریقے سے یقینی بنانا ہے۔
محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا نے وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات پر صوبے میں موجود پی او آر کارڈ ہولڈر افغان شہریوں کو فوری طور پر پاکستان چھوڑنے اور وطن واپس جانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ 30 جون 2025 کو پی او آر کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد ان افغان شہریوں کا پاکستان میں قیام غیرقانونی تصور کیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق، پاسپورٹ اور ویزا کے بغیر موجود افغان شہریوں کا قیام کسی بھی صورت قانونی حیثیت نہیں رکھتا، اور 30 جون کے بعد سے ایسے تمام افراد غیر قانونی تارکین وطن شمار ہوں گے۔
محکمہ داخلہ نے پی او آر کارڈ ہولڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر پشاور اور لنڈی کوتل کے ٹرانزٹ پوائنٹس پر پہنچیں تاکہ وطن واپسی کا عمل باقاعدگی سے مکمل کیا جا سکے۔
محکمہ داخلہ کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ نے 31 جولائی 2025 کو پی او آر کارڈ ہولڈرز کی وطن واپسی کا حتمی فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت اب ان کے پاکستان میں مزید قیام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سرکاری حکم نامے کے مطابق، ان ہدایات پر عملدرآمد کا آغاز فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک سینئر سرکاری افسر مہر اللہ نے ”اے ایف پی” کو بتایا کہ ‘ہمیں ہوم ڈیپارٹمنٹ (وزارت داخلہ) کی جانب سے ہدایت موصول ہوئی ہے کہ تمام افغان باشندوں کی واپسی کیلئے ایک نئی مہم کا آغاز کیا جائے، جو عزت اور نظم کے ساتھ مکمل ہو۔
چمن میں تعینات ایک سینئر حکومتی اہلکار حبیب بنگلزئی نے جمعے کے روز بتایا کہ ‘چمن بارڈر پر تقریباً 4 سے 5 ہزار افغان شہری واپس جانے کے منتظر تھے۔’
سرحد پار افغانستان کے صوبہ قندھار میں مہاجرین کی رجسٹریشن کے سربراہ عبد اللطیف حکیمی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ افغان شہریوں کی واپسی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسی دوران حکومت پاکستان نے تمام سرحدی تجارتی پوائنٹس پر اْن افغان مال بردار گاڑیوں کا داخلہ بھی بند کر دیا ہے جن کے ڈرائیوروں کے پاس درست ویزے موجود نہیں۔
وزارتِ تجارت کے مطابق، افغان ڈرائیوروں کو ویزا حاصل کرنے کیلئے ایک سال کی مہلت دی گئی تھی جو اب مکمل ہو چکی ہے۔حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اب ویزے کی شرط پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ سرحدی نقل و حرکت کو بہتر بنایا جا سکے اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم، وہ افغان ٹرک جو اس وقت عارضی اجازت ناموں کے تحت کام کر رہے ہیں، انہیں 31 اگست تک عبوری طور پر نقل و حمل کی اجازت دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پی او آر کارڈ افغان شہریوں فوری طور پر
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز