نفع نقصان کی پرواہ کیے بغیر سینیٹ کمیٹیوں سے استعفے دے رہے ہیں، بیرسٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اور معروف وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے حکم پر پی ٹی آئی کے تمام سینیٹرز سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے رہے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ پارٹی میں کچھ لوگ چاہتے تھے کہ وہ اس نظام کا حصہ رہیں۔ اس وقت نفع یا نقصان کی پرواہ نہیں ہے، کیونکہ موجودہ نظام جھوٹ پر مبنی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کمیٹیوں میں رہ کر بھی کیا فائدہ ہے، جب ہماری سفارشات پر عمل ہی نہ ہو؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ کمیٹی چیئرمین کی سفارشات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ان کمیٹیوں کا حصہ رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یہ اقدام حکومت اور موجودہ سیاسی نظام کے خلاف پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی مزاحمت کا واضح اشارہ ہے۔
اس فیصلے کے بعد سینیٹ میں پی ٹی آئی کی نمائندگی اور اس کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد موجودہ پارلیمانی نظام کے خلاف شدید احتجاج درج کرانا ہے، جس کے بارے میں پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ یہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بیرسٹر علی ظفر پاکستان تحریک انصاف سینیٹ کمیٹیوں سے استعفے عمران خان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر پاکستان تحریک انصاف سینیٹ کمیٹیوں سے استعفے وی نیوز بیرسٹر علی ظفر پی ٹی آئی
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔