پاک بحریہ کا بڑا اقدام، بھارتی ٹینکر کے زخمی سیفیرر کو مقامی اسپتال منتقل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
لاہور:
پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی(پی ایم ایس اے) نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے لائبیریا کے پرچم بردار ٹینکر کے بھارت سے تعلق رکھنے والے عملے کے زخمی رکن کو مقامی اسپتال منتقل کیا۔
پاک بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاک بحریہ کے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کو لائبیریا کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی ہائی لیڈر سے ایک ہنگامی کال موصول ہوئی، جس میں عملے کے ایک زخمی رکن کے طبی انخلا کےلیے مدد مانگی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ جہاز پر تمام عملہ بھارتی شہریوں پر مشتمل تھا، جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر نے فوری اور مؤثر ردعمل یقینی بنانے کے لیے اپنے مربوط میری ٹائم پروٹوکولز کو متحرک کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیاب طبی انخلا پاکستان کے میری ٹائم سیفٹی نظام کی آپریشنل تیاری اور فوری ردعمل کا مظہر ہے، ہم آہنگی اور فوری عمل درآمد پاک بحریہ کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ کا جے ایم آئی سی سی کسی بھی سمندری حادثے کے ردعمل کو مربوط بنانے کے لیے تمام متعلقہ قومی اداروں کے درمیان ایک کلیدی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میری ٹائم پاک بحریہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔