پاک بحریہ کا بڑا اقدام، بھارتی ٹینکر کے زخمی سیفیرر کو مقامی اسپتال منتقل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
لاہور:
پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی(پی ایم ایس اے) نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے لائبیریا کے پرچم بردار ٹینکر کے بھارت سے تعلق رکھنے والے عملے کے زخمی رکن کو مقامی اسپتال منتقل کیا۔
پاک بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاک بحریہ کے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کو لائبیریا کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی ہائی لیڈر سے ایک ہنگامی کال موصول ہوئی، جس میں عملے کے ایک زخمی رکن کے طبی انخلا کےلیے مدد مانگی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ جہاز پر تمام عملہ بھارتی شہریوں پر مشتمل تھا، جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر نے فوری اور مؤثر ردعمل یقینی بنانے کے لیے اپنے مربوط میری ٹائم پروٹوکولز کو متحرک کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیاب طبی انخلا پاکستان کے میری ٹائم سیفٹی نظام کی آپریشنل تیاری اور فوری ردعمل کا مظہر ہے، ہم آہنگی اور فوری عمل درآمد پاک بحریہ کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ کا جے ایم آئی سی سی کسی بھی سمندری حادثے کے ردعمل کو مربوط بنانے کے لیے تمام متعلقہ قومی اداروں کے درمیان ایک کلیدی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میری ٹائم پاک بحریہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔