سینیٹ اجلاس ،اسرائیل کے ایران پر حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جون2025ء)سینیٹ میں اسرائیل کے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔ بدھ کو چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونیوالے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد ایوان اسحاق ڈار نے بتایا کہ 21مسلم ممالک نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشترکہ مقف اپنا لیا ہے، ایران کی سلامتی، خطے اور عالم اسلام کے امن سے جڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ایران کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت سے پورے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور اس کے سنگین عالمی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔نہوں نے کہا کہ مسلم دنیا نے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔(جاری ہے)
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اگر ایران کے بعد پاکستان کی باری آئی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ایران صرف اپنی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی جنگ لڑ رہا ہے،اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی مدد کرنی ہو گی۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر نواز شریف ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ نہ کرتے تو آج پاکستان مشکلات میں ہوتا۔سینیٹر افنان اللہ نے پاکستان کی ایٹمی طاقت کو مسلم دنیا کا دفاعی ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مسلم ممالک کو تباہ کرنا چاہتا ہے جو کبھی ہونے نہیں دیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔