لیبیا کے قریب تارکین وطن کی ایک اور کشتی کو حادثہ، کم از کم پانچ پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
لیبیا کے قریب تارکین وطن کی ایک اور کشتی کو حادثہ، کم از کم پانچ پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
تریپولیٹانیا(آئی پی ایس )لیبیا کے شہر تریپولیٹانیا کے نزدیک الشاب بندرگاہ کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے کے ایک افسوسناک واقعے میں کم از کم پانچ پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ المناک واقعہ 12 جون کو پیش آیا جس میں مجموعی طور پر 60 سے زائد پناہ گزین اور تارکین وطن لاپتہ اور سمندر برد ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (آئی او ایم)کے مطابق اس حادثے میں صرف پانچ افراد کو زندہ بچایا جا سکا، جبکہ باقی تمام لاپتہ ہیں۔ مرنے والوں میں چھ اریٹریائی شہری(جن میں تین خواتین اور تین بچے شامل ہیں)، پانچ پاکستانی، چار مصری اور دو سوڈانی مرد شامل ہیں۔ چار دیگر افراد کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔آئی او ایم کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ریجنل ڈائریکٹر عثمان بلبیسی نے کہا کہ جب درجنوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہو اور پورے خاندان غم میں ڈوبے ہوں، تو ہم ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سمندر میں تلاش و امداد کی کارروائیاں بڑھائیں اور زندہ بچ جانے والوں کے لیے محفوظ اور پیشگی طے شدہ انداز میں اترنے کی ضمانت دیں۔
انہوں نے متاثرہ خاندانوں اور تمام متاثرہ افراد سے دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔ایک اور حادثہ اگلے روز، یعنی 13 جون کو، طبرق کے مغرب میں تقریبا 35 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ اس واقعے میں صرف ایک شخص زندہ بچا جسے مقامی ماہی گیروں نے بچایا۔ اس کے مطابق کشتی میں سوار 39 افراد سمندر میں ڈوب گئے۔ بعدازاں دو لاشیں 14 جون کو ام عقیقہ ساحل پر اور ایک لاش 15 جون کو طبرق شہر کے الرملا ساحل پر ملی۔ لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور اس میں سوڈانی برادری کے افراد مدد فراہم کر رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنوجوان نسل کو اداروں کیخلاف منفی پروپیگنڈے کیلئے پیسے نہیں دیے، عظمی بخاری نوجوان نسل کو اداروں کیخلاف منفی پروپیگنڈے کیلئے پیسے نہیں دیے، عظمی بخاری امریکا ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بنے، یہ ایک بڑی اور مہلک غلطی ہوگی، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نیتن یاہو نے مظالم میں ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، ترک صدر رجب طیب اردوان آزاد کشمیر کا بجٹ اجلاس، 3کھرب 10ارب سے زائد کا بجٹ پیش پاکستان تصادم چاہتا ہے اور نہ ہی بھارت سے مذاکرات کیلئے بے چین ہیں، بلاول بھٹو نیب خیبرپختونخوا نے کوہستان 40ارب روپے مالی اسکینڈل کی تحقیقات شروع کردیں، اعظم سواتی طلبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم