ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں ایران کے دفاع کے حق کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بدھ کے روز حکمران ’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘ کے پارلیمانی گروپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بالکل فطری، جائز اور قانونی ہے کہ ایران اسرائیل کی غنڈہ گردی اور ریاستی دہشتگردی کے خلاف اپنا دفاع کرے۔

یہ بھی پڑھیں اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری، سرینڈر نہیں کریں گے، آیت اللہ خامنہ ای

صدر اردوان کا یہ جرات مندانہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیل ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں میں شدت لا چکا ہے۔

اسرائیل پر شدید تنقید

صدر اردوان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ نیتن یاہو نے نسل کشی کے ارتکاب میں ہٹلر جیسے ظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ امید ہے کہ اس کا انجام بھی ویسا ہی نہ ہو۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ خطے میں جاری اس غیر انسانی جارحیت کے خلاف ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، خواہ وہ غزہ ہو، شام، لبنان، یمن یا پھر ایران ہو۔

’عالمی خاموشی پر افسوس کا اظہار‘

صدر اردوان نے عالمی طاقتوں اور اداروں کی بے حسی پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ قتل کیے گئے فلسطینی بچوں اور معصوم شہریوں کا خون صرف اسرائیل اور اس کے حمایتیوں کے ہاتھوں پر نہیں، بلکہ وہ چہرے بھی خون آلود ہو چکے ہیں جو اس قتل عام پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی خاموشی کو انسانیت کے لیے شرمناک قرار دیا۔

’ترکیہ کی تیاری اور عزم‘

ترک صدر نے یقین دلایا کہ ان کی حکومت خطے میں کسی بھی منفی پیش رفت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ’ہم ایران پر اسرائیلی دہشتگردانہ حملوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے تمام ادارے چوکس ہیں اور ہم نے ہر ممکنہ منظرنامے کے لیے پیشگی تیاری کر رکھی ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ ترکیہ کی حکومت اپنے قومی مفادات، امن، اتحاد اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل پرعزم ہے۔

’خطے کے ممالک کے لیے تنبیہ‘

صدر اردوان نے خطے کے تمام ممالک، خصوصاً ایران کو مشورہ دیا کہ وہ ان واقعات سے سبق سیکھیں، اور خطے کے امن و استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔

سفارت کاری جاری رکھنے کا اعلان

اپنے خطاب کے اختتام پر ترک صدر نے زور دیا کہ ترکیہ مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

’ہم اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، سفارتی رابطے اور فون ڈپلومیسی کو بروئے کار لائیں گے تاکہ اس تباہی کو روکا جا سکے جو ہر ایک کو متاثر کر سکتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں ایران میں حکومت کی ممکنہ تبدیلی کے بعد کا نقشہ کیا ہوگا؟ رضا پہلوی کا اہم بیان سامنے آگیا

ترک صدر اردوان کا بیان ایک بھرپور سفارتی پیغام کے طور پر ابھرا ہے، جو نہ صرف اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی رائے عامہ کو جھنجھوڑنے کی کوشش ہے بلکہ ایران کے دفاعی مؤقف کے لیے ایک غیر متوقع مگر مضبوط علاقائی حمایت کا اعلان بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیل ایران کشیدگی ترکیہ صدر حق دفاع رجب طیب اردوان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران کشیدگی ترکیہ صدر حق دفاع رجب طیب اردوان وی نیوز صدر اردوان اردوان نے انہوں نے کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟