Express News:
2026-06-03@06:51:19 GMT

بلوچستان پر اسرائیلی توجہ پر توجہ کی ضرورت

اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT

کسی بھی دشمن یا ممکنہ حریف ریاست کو کمزور کرنے کا ایک آزمودہ طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کی نسلی ، علاقائی و مذہبی فالٹ لائنز اور اندرونی بے چینی کو بڑھاوا دیا جائے۔اس سلسلے میں جو مقامی طبقات یا گروہ سرگرم ہوتے ہیں ان میں سے کچھ نظریاتی ہوتے ہیں اور کچھ موقع پرست۔ کچھ ترغیبات کے پھندے میں الجھ کے کٹھ پتلی بن کے بعد میں نقصان اٹھاتے ہیں اور کچھ نظریاتی بالغ نظری سے کام لیتے ہوئے صرف انھی بیرونی و اندرونی قوتوں کی اخلاقی و مادی حمائیت قبول کرتے ہیں جو ان کے نظریاتی اہداف پر اثرانداز ہونے یا انھیں بدلنے کی کوشش نہ کریں۔

جیسے ہم نے پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں دیکھا۔ مغربی استعماری طاقتوں نے سلطنتِ عثمانیہ کو منتشر کرنے کے لیے عرب قوم پرستی کو بڑھاوا دیا۔بعد از جنگ خود مختاری و حکمرانی کے سبز باغ دکھائے گئے اور جب سلطنت ختم ہو گئی تو مشرقِ وسطی کو اپنی مرضی کی سرحدوں میں بانٹ دیا گیا ( یہ عمل اب تک جاری ہے) ۔

یوں ترک اور عرب اور عرب بمقابلہ عرب ایک دوسرے سے بدظن ہو کر دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔استعماری طاقتوں نے کبھی ایک کی سرپرستی کی تو کبھی اس کے حریف کی۔اس کھیل نے پورے خطے کو کیسے کیسے جغرافیائی ، سیاسی و ثقافتی گھاؤ لگائے۔آج کے حالات میں یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں۔

نوآبادیاتی طاقتوں کا وارث اسرائیل نہ صرف اسی کلاسیکی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے بلکہ بقول شخصے اسے ’’ نیکسٹ لیول ‘‘ پر لے گیا ہے۔اسرائیل مخالف متحدہ عرب مسلم محاز اور فلسطینیوں کی بین العرب غیر متزلزل ریاستی حمائیت ماضی کا قصہ ہیں۔

گذری پون صدی میں پہلے فلسطین کی جبری تقسیم ہوئی۔پھر مزید عرب علاقے ہتھیائے گئے اور پھر ان میں سے کچھ علاقے بطور احسان واپس کر کے شکست خوردہ ریاستوں کو اپنا ممنون بنانے کی کوشش ہوئی۔

مثلاً کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے تحت مقبوضہ سینا کی واپسی اور سالانہ فوجی و اقتصادی امداد کا دانہ ڈال کے مصر کو اسرائیل مخالف متحدہ عرب فرنٹ سے علیحدہ کیا گیا۔لبنان میں خانہ جنگی کو ہوا دی گئی تاکہ اسرائیل کی شمالی سرحد کا تحفظ ہو سکے اور پی ایل او کو بھی بیروت سے نکالا جا سکے۔ بغداد کی مرکزی بعثی حکومتوں کے مظالم کے خلاف جاری شمالی عراق میں آباد کردوں کی تحریک کو بھی اسرائیل نے بذریعہ شاہ ایران اور پھر براہِ راست خاموش مدد کے ذریعے لبھانے کی کوشش کی۔

شام سے چھینی گئی گولان کی پہاڑیوں کو ہڑپ کیا گیا اور پھر الاسد خاندان کے مکمل زوال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے نہ صرف شام کا بچا کھچا عسکری ڈھانچہ تتر بتر کیا بلکہ مقبوضہ گولان سے متصل شام کے جنوبی صوبے السویدا میں آباد دروزوں کے تحفظ کے نام پر ایک فوجی بفر زون قائم کر لیا۔

 اب اسرائیل شام کے شمالی حصے میں آباد کردوں پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ جنوب سے شمال تک ’’ ڈیوڈ کاریڈور ‘‘ بنایا جائے اور اسرائیل کو ترکی کی گردن پر گرم گرم پھونکیں مارنے کی براہِ راست سہولت مل جائے۔شام کو کم ازکم چار حصوں میں بانٹ کے ایک مستقل خانہ جنگی کی کیفیت برقرار رکھی جائے۔دمشق میں کوئی ایسی مرکزی حکومت مستحکم نہ ہو سکے جو آگے چل کے اسرائیل کے لیے دوبارہ خطرہ بن جائے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ جو ریاست فلسطینیوں کے حقِ خوداختیاری کو ٹینکوں تلے کچل رہی ہے اسی ریاست کے دل میں ان دنوں آس پاس کے ممالک میں آباد محروم اقلیتوں کی خود مختاری کا درد جاگ اٹھا ہے۔

اس تناظر میں الجزیرہ ویب سائیٹ پر شایع ہونے والی یہ رپورٹ نظر سے گذری کہ اسرائیل ایران کو کمزور کرنے کے لیے نہ صرف ایرانی بلکہ پاکستانی بلوچستان کی بے چینی کو بھی ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فلسطینی تجزیہ کار عبداللہ موسویس کے مطابق واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( میمری ) نے بارہ جون کو بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ ( بی ایس پی ) قائم کرنے کا اعلان کیا۔

اس پروجیکٹ کا تعارف یوں کرایا گیا کہ بلوچستان ( ایرانی و پاکستانی ) نہ صرف یورینیم ، تیل ، گیس ، تانبے ، کوئلے اور دیگر قیمتی دھاتوں سے مالامال خطہ ہے بلکہ یہاں گوادر اور چاہ بہار کی دو قدرتی گہری بندرگاہیں بھی ہیں۔یوں اس خطے کا جغرافیہ ایرانی کنٹرول ، اس کی ایٹمی خواہشات اور اس تناظر میں پاکستان سے اس کے خطرناک ایٹمی مراسم پر اثرانداز ہونے کے لیے مثالی ہے۔

میمری تھنک ٹینک اسرائیلی ملٹری انٹیلی جینس میں بیس برس خدمات انجام دینے والے کرنل یگال کرمون نے انیس سو اٹھانوے میں قائم کیا۔میمری کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عربی ، ترک اور فارسی میں شایع ہونے والے ترجمہ شدہ مضامین اور اقتباسات بھی ملتے ہیں۔ دو ہزار بارہ سے یہ تھنک ٹینک اسرائیل کے لیے حساس معلومات اکٹھا کرنے کا غیر اعلانیہ کام بھی کرتا ہے۔

مگر اس ویب سائٹ پر حقائق اور تجزیے کے نام پر بہت سے بلنڈرز بھی نظر آتے ہیں۔مثلاً یہی کہ بلوچستان مغربی دنیا کا فطری اتحادی ہے۔ حالانکہ یہاں کے لوگ اچھے سے جانتے ہیں کہ بیرک گولڈ اور بی ایچ پی بلیٹن جیسی دیگر مغربی کمپنیاں یہاں کی معدنی دولت کو کس نظر سے دیکھتی ہیں۔

اسی طرح میمری کے بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ میں جو مضامین مختلف ناموں سے شایع ہوتے ہیں ان میں ایک نام پروجیکٹ کے معاونِ خصوصی ، مصنف ، اسکالر ، پولٹیکل سائنٹسٹ میر یار بلوچ ہے۔ دعوی کیا گیا ہے کہ میر یار بلوچ کا ایکس اکاؤنٹ جنوبی ایشیا کے سب سے بااثر اور مقبول ٹویٹر اکاؤنٹس میں شامل ہے۔

اس اکاؤنٹ پر گزشتہ مئی میں یہ پوسٹ بھی لگی کہ چھ کروڑ بلوچ آپریشن سندور کی بھرپور حمائیت کرتے ہیں۔

میر یار بلوچ کے حوالے سے بھارتی ذرایع ابلاغ میں خبریں بکثرت شایع ہوتی ہیں۔مثلاً یہی کہ تمام بلوچ قوم پرست میر یار بلوچ کے ایکس اکاؤنٹ پر موجود اعلانِ آزادی سے متفق ہیں۔بلوچ نیشنل موومنٹ کے ایکٹوسٹ نیاز بلوچ نے خبردار کیا ہے کہ میر یار بلوچ سمیت کم ازکم چار ایسے فیک اکاؤنٹس ہیں جنھیں سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔

ہم سب ایران اسرائیل بارہ روزہ جنگ میں دیکھ چکے ہیں کہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ میں اسرائیل (موساد ) نے کتنی گہری جڑیں بنائیں۔اگلے مرحلے میں ایران اور اس سے متصل پاکستان میں چلنے والی تحریکوں کو اسرائیل اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے اور اس بابت بھارت اور اسرائیل کے باہم خیالات اور وسیع تر اسٹرٹیجک ساجھے داری نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔

حالانکہ ان مقامی تحریکوں کے اٹھنے کے بنیادی اسباب داخلی ہیں۔مگر یہ کوئی نئی بات نہیں کہ جب حکومتیں ایسی تحریکوں کے پسِ پردہ حقیقی اسباب کو مسلسل نظرانداز کر کے ان کا کوئی متفقہ قابلِ قبول سیاسی و اقتصادی حل نکالنے کے بجائے محض طاقت کے استعمال پر تکیہ کرتی ہیں تو پھر کوئی بھی بیرونی طاقت اس آگ پر اپنے مفاد میں مزید تیل ڈال کے ہاتھ تاپ سکتی ہے۔

اسرائیل کو اس ایجنڈے سے یوں بھی دلچسپی ہے کہ وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ خومختاری کی خواہش مند علاقائی تحریکوں اور فلسطینی محرومی کی تحریک کسی مشترکہ نکتے کو اپنا محور بنا کے اس کے علاقائی عزائم کی راہ میں ایک اور دردِ سر پیدا کر دیں۔چنانچہ جس جس مقامی تحریک پر بظاہر ہمدرد بن کے ہاتھ رکھا جا سکتا ہے رکھ دیا جائے تاکہ وہ فلسطینیوں سے کسی بھی مرحلے پر اظہارِ یکجہتی کے بارے میں سوچے ہی نا۔

اگر واقعی وہ ریاستیں جو فلسطین کے حقِ خود اختیاری کی دل سے حامی ہیں اور خود بھی علیحدگی پسندی کی تحریکوں کا سامنا کر رہی ہیں۔انھیں سمجھ داری برتتے ہوئے پہلے اپنے گھر کے حالات ٹھیک کرنے ہوں گے تاکہ کوئی بھی خود غرض طاقت ان کی اس کمزوری کو اپنے ایجنڈے کا ایندھن نہ بنا سکے۔

 خود ان تحریکوں کی قیادت کو بھی کسی بھی دوست نما سے ہاتھ ملاتے وقت دس بار سوچنا چاہیے کہ کہیں یہ مصافحہ ان کی اب تک کی کوششوں پر پانی نہ پھیر دے اور مطلبی محسن اپنا کام نکال کے چلتا بنے۔

مگر وہ جو کہتے ہیں کہ سب سے مشکل کام سب سے آسان بات کو سمجھنا اور سمجھانا ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میر یار بلوچ کی کوشش کو بھی کے لیے ہیں کہ اور اس

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان