نیتن یاہو نے مظالم میں ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، ترک صدر رجب طیب اردوان
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
نیتن یاہو نے مظالم میں ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، ترک صدر رجب طیب اردوان WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
انقرہ (آئی پی ایس )ترک صدر ںے اپنی جماعت کے ارکان سے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دفاع کا قانونی اور جائز حق حاصل ہے، نیتن یاہو نے مظالم میں ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، مذاکرات ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر ایران پراسرائیلی حملہ دہشت گردی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے نے اپنی جماعت کے ارکان سے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا قانونی، جائز اور فطری حق حاصل ہے اور اسرائیل کی جانب سے مذاکرات ختم ہونے سے پہلے ایران پر کیا گیا حملہ کھلی دہشت گردی ہے۔صدر اردوان نے اسرائیلی وزیراعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے اپنے مظالم میں بہت پہلے ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران کی مزاحمت، درحقیقت اپنے ملک کے دفاع کا حق ادا کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری مذاکرات کے دوران اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنا، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل خود جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور عالمی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا۔ ایسے میں مذاکرات مکمل ہونے سے قبل ایران پر حملہ ناقابلِ قبول دہشت گردی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآزاد کشمیر کا بجٹ اجلاس، 3کھرب 10ارب سے زائد کا بجٹ پیش آزاد کشمیر کا بجٹ اجلاس، 3کھرب 10ارب سے زائد کا بجٹ پیش پاکستان تصادم چاہتا ہے اور نہ ہی بھارت سے مذاکرات کیلئے بے چین ہیں، بلاول بھٹو نیب خیبرپختونخوا نے کوہستان 40ارب روپے مالی اسکینڈل کی تحقیقات شروع کردیں، اعظم سواتی طلب امریکا سن لے، ایران کبھی سرینڈر نہیں کرے گا، آیت اللہ علی خامنہ ای مسلسل ایرانی حملوں سے اسرائیل کے دفاعی ایرو میزائل انٹرسیپٹرز کی مقدار کم ہو رہی ہے،امریکی اخبار اماراتی صدر شیخ محمد بن زایدکا ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے مظالم میں نیتن یاہو نے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔