ایران کے سابق ولی عہد نے رجیم تبدیلی کے بعد کا منصوبہ پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور موجودہ نظام کے خاتمے کے بعد عبوری حکومت کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کنٹرول کھو دیا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کا خاتمہ قریب ہے۔
ایران کے سابق بادشاہ محمد رضا پہلوی کے صاحبزادے رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ایرانی عوام کو اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے بعد کے دور سے متعلق فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایک مکمل منصوبہ تیار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خامنہ ای کے بعد ملک میں 100 دن کی عبوری حکومت قائم کی جائے گی، جس کے بعد قومی جمہوری حکومت کی تشکیل عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری دور کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ ملک کو استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے۔
سابق ولی عہد نے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ ایسی حکومت کی حمایت نہ کریں جو عوام میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور جس کا انجام قریب ہے۔
The Islamic Republic has come to its end and is collapsing.
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے اور اس دوران رضا پہلوی کی سرگرمیاں بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے زیرِ بحث ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو میں رضا پہلوی کو مقبوضہ بیت المقدس میں دیکھا گیا ہے جہاں وہ یہودیوں کے مقدس مقام دیوار گریہ کا دورہ کرتے نظر آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔