Islam Times:
2026-07-24@04:36:03 GMT

ایران استقامت کی علامت اور سامراجی بیانیے کا نشانہ

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

ایران استقامت کی علامت اور سامراجی بیانیے کا نشانہ

اسلام ٹائمز: ہمیں ایران کو مسائل کا شکار ملک نہیں بلکہ مزاحمت کا مرکز سمجھنا چاہیئے۔ امید نہ ٹرمپ سے ہے، نہ بائیڈن سے۔ امید صرف اللہ کی نصرت، عوام کی استقامت اور مزاحمتی قیادت سے ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایران کی حمایت میں دیئے گئے بیانات نے امت مسلمہ کی مشترکہ وحدت کو سہارا دیا ہے اور یہ رویہ نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ باقی مسلم ممالک کیلئے بھی قابلِ تقلید ہے۔ پاکستان کو ایران کیساتھ عوامی، سفارتی، تعلیمی اور دفاعی میدانوں میں ربط بڑھانا ہوگا، امت مسلمہ کو ایران کیخلاف سازشوں کے سامنے اتحاد، شعور اور مزاحمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایران کی کامیابی صرف ایران کی نہیں بلکہ امت مسلمہ کی کامیابی ہے۔ تحریر: آغا زمانی

(یہ کالم ایران کی موجودہ صورتحال، اس کی سفارتکاری، عالمی مظلوموں کی حمایت، مغربی میڈیا کی جانبداری اور اس کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔) ایران، مشرق وسطیٰ کا وہ ملک ہے، جو صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک مزاحمتی علامت اور عالمی سامراج کے خلاف امتِ مسلمہ کی تنہاء استقامت کا نام ہے۔ حالیہ عالمی حالات، اسرائیلی جارحیت، امریکہ کی پالیسیوں اور مغربی میڈیا کے بیانیے نے ایران کو ایک بار پھر عالمی تنقید اور سازشوں کے طوفان میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں بعض تجزیہ کار ایران کے مستقبل کو مایوسی کی غیر یقینی صورتحال میں دیکھ رہے ہیں اور بعض تو امید کا مرکز ایک ایسے شخص کو بنا بیٹھے ہیں، جس نے خود ایران کو بارہا عسکری، اقتصادی اور نظریاتی حملوں کا نشانہ بنایا، یعنی جارح ڈونلڈ ٹرمپ۔

1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران نے عالمی سامراج، صہیونی استعمار اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف واضح اور غیر متزلزل موقف اپنایا۔ اس موقف کی قیمت ایران نے، 8 سالہ مسلط کردہ (ایران۔عراق) جنگ، عالمی پابندیوں، سائنسدانوں کے قتل، سفارتی دباؤ، داخلی بدامنی کی سازشوں اور میڈیا وار کی صورت میں چکائی۔ لیکن اس تمام تر جارحیت کے باوجود ایران نہ جھکا، نہ بکا، نہ ٹوٹا۔ یہی وہ استقامت ہے، جو ایران کو دنیا کی مظلوم اقوام کے دلوں میں ممتاز مقام دیتی ہے۔ آج ایران پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں، وہ اس لیے نہیں کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے بلکہ اس لیے کہ ایران، غاصب اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ فلسطین، لبنان، شام، یمن اور عراق کے مظلوموں کی حمایت کرتا ہے۔ اپنے دفاعی نظام میں خود کفیل ہوچکا ہے اور عالمی معاہدوں کی پابندی کے باوجود اپنی خود مختاری پر سودا نہیں کرتا۔ ایران نے NPT (Non-Proliferation Treaty) پر دستخط کیے، IAEA کے معائنے کی اجازت دی، لیکن صہیونی ریاست اسرائیل نے نہ NPT مانا، نہ کسی معائنے کی اجازت دی، پھر بھی مغربی دنیا کی نظر میں ایران "خطرہ" ہے اور اسرائیل "شراکت دار۔"

یہ انصاف ہے یا سامراجی دوہرا معیار؟
ایران میں چند مظاہرین کی فوٹیج کو "انقلاب مخالف" بنا کر پیش کرنا اور اسرائیل میں لاکھوں کے مظاہرے کو نظرانداز کرنا مغربی صحافت کا معیار ہے۔ مغربی میڈیا ایران کے جوہری پروگرام کو خطرہ کہتا ہے، اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں پر چپ سادھ لیتا ہے۔ ایران کی مزاحمت کو انتہاء پسندی قرار دیتا ہے، اسرائیلی جارحیت کو دفاعی کارروائی کا نام دیتا ہے۔ فلسطینی شہداء کو دہشتگرد اور صہیونی قاتلوں کو آبادکار لکھتا ہے۔ یہ سفید فام تہذیب کی وہ میڈیائی سفاکی ہے، جو آج دنیا کی رائے عامہ کو زہر آلود کر رہی ہے۔ ایران کے بعض ناقدین موجودہ بحران سے نکلنے کی امید ڈونلڈ ٹرمپ سے جوڑتے ہیں، جو بذات خود القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرچکا، جنرل قاسم سلیمانی جیسے عظیم کمانڈر کو شہید کرچکا، JCPOA معاہدے کو یکطرفہ ختم کرچکا، ایران پر سخت ترین پابندیاں لگا چکا۔ ایک ایسا شخص جو عالمی امن کی ہر کوشش کو روندتا رہا ہو، اسے "امن کی فاختہ" قرار دینا نہ صرف فکری سادگی ہے بلکہ اسلامی اصولوں اور مزاحمتی نظریئے سے انحراف بھی ہے۔

ایران نے صرف مزاحمت نہیں کی بلکہ دنیا کے بڑے طاقتور ملکوں سے باوقار تعلقات استوار کیے، چین سے 25 سالہ اسٹریٹیجک معاہدہ، روس کے ساتھ دفاعی تعاون، شنگھائی تعاون تنظیم اور BRICS میں شمولیت، بھارت، ترکی، وینزویلا، برازیل جیسے ممالک سے دو طرفہ معاہدے، جوہری معاہدے پر یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے موثر سفارتکاری۔ یہ سب بتاتے ہیں کہ ایران سفارتی سطح پر بھی ایک عالمی مؤثر قوت ہے۔ ایران کا سیاسی نظام جمہوری و الٰہیاتی امتزاج پر مبنی ہے، جس میں منتخب صدر، پارلیمنٹ اور بلدیاتی ادارے عوامی نمائندگی کے ترجمان ہیں۔ ولایت فقیہ کی قیادت دینی و اخلاقی رہنمائی کی ضامن ہے۔ عدلیہ، نگہبان کونسل اور خبرگان کی مجلس آئینی استقامت کی مظہر ہیں۔ یہی وہ نظام ہے، جو ایران کو نہ صرف اندرونی طور پر مضبوط بناتا ہے بلکہ نظریاتی مزاحمت کی عالمی علامت بھی بناتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ‌ ای نے اپنے حالیہ خطاب میں فرمایا، "ملت ایران نہ جنگی تسلط کو قبول کرے گی، نہ سیاسی۔ ہم نے مسلط کردہ جنگ میں استقامت دکھائی، مسلط کردہ صلح کے خلاف بھی ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔ ایران کی کامیابی اللہ کی نصرت سے مشروط ہے، نہ کہ کسی سیاسی کمک یا مغربی چال سے۔" ایران بلاشبہ نازک دور سے گزر رہا ہے، مگر یہ وہی ملت ہے، جس نے امریکی سفارتخانے پر قبضہ کرکے سامراج کو للکارا۔ صدام، اسرائیل اور امریکہ کو ایک صف میں شکست دی۔ اپنی معیشت، سائنس اور عسکری خود مختاری کے لیے خود انحصاری کی راہ اپنائی۔ ایران آج بھی امتِ مسلمہ کی وہ واحد آواز ہے، جو سامراج کو للکارتی ہے۔

ہمیں ایران کو مسائل کا شکار ملک نہیں بلکہ مزاحمت کا مرکز سمجھنا چاہیئے۔ امید نہ ٹرمپ سے ہے، نہ بائیڈن سے۔ امید صرف اللہ کی نصرت، عوام کی استقامت اور مزاحمتی قیادت سے ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایران کی حمایت میں دیئے گئے بیانات نے امت مسلمہ کی مشترکہ وحدت کو سہارا دیا ہے اور یہ رویہ نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ باقی مسلم ممالک کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔ پاکستان کو ایران کے ساتھ عوامی، سفارتی، تعلیمی اور دفاعی میدانوں میں ربط بڑھانا ہوگا، امت مسلمہ کو ایران کے خلاف سازشوں کے سامنے اتحاد، شعور اور مزاحمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایران کی کامیابی صرف ایران کی نہیں بلکہ امت مسلمہ کی کامیابی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امت مسلمہ کی کی کامیابی اور مزاحمت مزاحمت کا نہیں بلکہ ایران کی کو ایران ایران کو ایران کے کی حمایت ایران نے کے خلاف ہے اور

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی