Islam Times:
2026-06-03@06:09:15 GMT

ایران استقامت کی علامت اور سامراجی بیانیے کا نشانہ

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

ایران استقامت کی علامت اور سامراجی بیانیے کا نشانہ

اسلام ٹائمز: ہمیں ایران کو مسائل کا شکار ملک نہیں بلکہ مزاحمت کا مرکز سمجھنا چاہیئے۔ امید نہ ٹرمپ سے ہے، نہ بائیڈن سے۔ امید صرف اللہ کی نصرت، عوام کی استقامت اور مزاحمتی قیادت سے ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایران کی حمایت میں دیئے گئے بیانات نے امت مسلمہ کی مشترکہ وحدت کو سہارا دیا ہے اور یہ رویہ نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ باقی مسلم ممالک کیلئے بھی قابلِ تقلید ہے۔ پاکستان کو ایران کیساتھ عوامی، سفارتی، تعلیمی اور دفاعی میدانوں میں ربط بڑھانا ہوگا، امت مسلمہ کو ایران کیخلاف سازشوں کے سامنے اتحاد، شعور اور مزاحمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایران کی کامیابی صرف ایران کی نہیں بلکہ امت مسلمہ کی کامیابی ہے۔ تحریر: آغا زمانی

(یہ کالم ایران کی موجودہ صورتحال، اس کی سفارتکاری، عالمی مظلوموں کی حمایت، مغربی میڈیا کی جانبداری اور اس کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔) ایران، مشرق وسطیٰ کا وہ ملک ہے، جو صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک مزاحمتی علامت اور عالمی سامراج کے خلاف امتِ مسلمہ کی تنہاء استقامت کا نام ہے۔ حالیہ عالمی حالات، اسرائیلی جارحیت، امریکہ کی پالیسیوں اور مغربی میڈیا کے بیانیے نے ایران کو ایک بار پھر عالمی تنقید اور سازشوں کے طوفان میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں بعض تجزیہ کار ایران کے مستقبل کو مایوسی کی غیر یقینی صورتحال میں دیکھ رہے ہیں اور بعض تو امید کا مرکز ایک ایسے شخص کو بنا بیٹھے ہیں، جس نے خود ایران کو بارہا عسکری، اقتصادی اور نظریاتی حملوں کا نشانہ بنایا، یعنی جارح ڈونلڈ ٹرمپ۔

1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران نے عالمی سامراج، صہیونی استعمار اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف واضح اور غیر متزلزل موقف اپنایا۔ اس موقف کی قیمت ایران نے، 8 سالہ مسلط کردہ (ایران۔عراق) جنگ، عالمی پابندیوں، سائنسدانوں کے قتل، سفارتی دباؤ، داخلی بدامنی کی سازشوں اور میڈیا وار کی صورت میں چکائی۔ لیکن اس تمام تر جارحیت کے باوجود ایران نہ جھکا، نہ بکا، نہ ٹوٹا۔ یہی وہ استقامت ہے، جو ایران کو دنیا کی مظلوم اقوام کے دلوں میں ممتاز مقام دیتی ہے۔ آج ایران پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں، وہ اس لیے نہیں کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے بلکہ اس لیے کہ ایران، غاصب اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ فلسطین، لبنان، شام، یمن اور عراق کے مظلوموں کی حمایت کرتا ہے۔ اپنے دفاعی نظام میں خود کفیل ہوچکا ہے اور عالمی معاہدوں کی پابندی کے باوجود اپنی خود مختاری پر سودا نہیں کرتا۔ ایران نے NPT (Non-Proliferation Treaty) پر دستخط کیے، IAEA کے معائنے کی اجازت دی، لیکن صہیونی ریاست اسرائیل نے نہ NPT مانا، نہ کسی معائنے کی اجازت دی، پھر بھی مغربی دنیا کی نظر میں ایران "خطرہ" ہے اور اسرائیل "شراکت دار۔"

یہ انصاف ہے یا سامراجی دوہرا معیار؟
ایران میں چند مظاہرین کی فوٹیج کو "انقلاب مخالف" بنا کر پیش کرنا اور اسرائیل میں لاکھوں کے مظاہرے کو نظرانداز کرنا مغربی صحافت کا معیار ہے۔ مغربی میڈیا ایران کے جوہری پروگرام کو خطرہ کہتا ہے، اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں پر چپ سادھ لیتا ہے۔ ایران کی مزاحمت کو انتہاء پسندی قرار دیتا ہے، اسرائیلی جارحیت کو دفاعی کارروائی کا نام دیتا ہے۔ فلسطینی شہداء کو دہشتگرد اور صہیونی قاتلوں کو آبادکار لکھتا ہے۔ یہ سفید فام تہذیب کی وہ میڈیائی سفاکی ہے، جو آج دنیا کی رائے عامہ کو زہر آلود کر رہی ہے۔ ایران کے بعض ناقدین موجودہ بحران سے نکلنے کی امید ڈونلڈ ٹرمپ سے جوڑتے ہیں، جو بذات خود القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرچکا، جنرل قاسم سلیمانی جیسے عظیم کمانڈر کو شہید کرچکا، JCPOA معاہدے کو یکطرفہ ختم کرچکا، ایران پر سخت ترین پابندیاں لگا چکا۔ ایک ایسا شخص جو عالمی امن کی ہر کوشش کو روندتا رہا ہو، اسے "امن کی فاختہ" قرار دینا نہ صرف فکری سادگی ہے بلکہ اسلامی اصولوں اور مزاحمتی نظریئے سے انحراف بھی ہے۔

ایران نے صرف مزاحمت نہیں کی بلکہ دنیا کے بڑے طاقتور ملکوں سے باوقار تعلقات استوار کیے، چین سے 25 سالہ اسٹریٹیجک معاہدہ، روس کے ساتھ دفاعی تعاون، شنگھائی تعاون تنظیم اور BRICS میں شمولیت، بھارت، ترکی، وینزویلا، برازیل جیسے ممالک سے دو طرفہ معاہدے، جوہری معاہدے پر یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے موثر سفارتکاری۔ یہ سب بتاتے ہیں کہ ایران سفارتی سطح پر بھی ایک عالمی مؤثر قوت ہے۔ ایران کا سیاسی نظام جمہوری و الٰہیاتی امتزاج پر مبنی ہے، جس میں منتخب صدر، پارلیمنٹ اور بلدیاتی ادارے عوامی نمائندگی کے ترجمان ہیں۔ ولایت فقیہ کی قیادت دینی و اخلاقی رہنمائی کی ضامن ہے۔ عدلیہ، نگہبان کونسل اور خبرگان کی مجلس آئینی استقامت کی مظہر ہیں۔ یہی وہ نظام ہے، جو ایران کو نہ صرف اندرونی طور پر مضبوط بناتا ہے بلکہ نظریاتی مزاحمت کی عالمی علامت بھی بناتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ‌ ای نے اپنے حالیہ خطاب میں فرمایا، "ملت ایران نہ جنگی تسلط کو قبول کرے گی، نہ سیاسی۔ ہم نے مسلط کردہ جنگ میں استقامت دکھائی، مسلط کردہ صلح کے خلاف بھی ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔ ایران کی کامیابی اللہ کی نصرت سے مشروط ہے، نہ کہ کسی سیاسی کمک یا مغربی چال سے۔" ایران بلاشبہ نازک دور سے گزر رہا ہے، مگر یہ وہی ملت ہے، جس نے امریکی سفارتخانے پر قبضہ کرکے سامراج کو للکارا۔ صدام، اسرائیل اور امریکہ کو ایک صف میں شکست دی۔ اپنی معیشت، سائنس اور عسکری خود مختاری کے لیے خود انحصاری کی راہ اپنائی۔ ایران آج بھی امتِ مسلمہ کی وہ واحد آواز ہے، جو سامراج کو للکارتی ہے۔

ہمیں ایران کو مسائل کا شکار ملک نہیں بلکہ مزاحمت کا مرکز سمجھنا چاہیئے۔ امید نہ ٹرمپ سے ہے، نہ بائیڈن سے۔ امید صرف اللہ کی نصرت، عوام کی استقامت اور مزاحمتی قیادت سے ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایران کی حمایت میں دیئے گئے بیانات نے امت مسلمہ کی مشترکہ وحدت کو سہارا دیا ہے اور یہ رویہ نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ باقی مسلم ممالک کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔ پاکستان کو ایران کے ساتھ عوامی، سفارتی، تعلیمی اور دفاعی میدانوں میں ربط بڑھانا ہوگا، امت مسلمہ کو ایران کے خلاف سازشوں کے سامنے اتحاد، شعور اور مزاحمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایران کی کامیابی صرف ایران کی نہیں بلکہ امت مسلمہ کی کامیابی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امت مسلمہ کی کی کامیابی اور مزاحمت مزاحمت کا نہیں بلکہ ایران کی کو ایران ایران کو ایران کے کی حمایت ایران نے کے خلاف ہے اور

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار