کشمور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے محرم الحرام سے قبل سندھ کی صورتحال اور پنجاب حکومت کے عزاداروں کیساتھ رویہ پر تنقید کی۔ انہوں نے ایران کی حمایت کا بھی اعلان کیا اور امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو سنگین جرم قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے سندھ میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کہا ضلع کشمور، کندکوٹ اور پورے سندھ میں امن و امان کی صورتحال نہایت خراب ہو چکی ہے۔ دن دہاڑے مین سڑکوں پر مسافروں اور بچوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ مین روڈ پر دن دھاڑے بسوں کو روک کر 300 مسافروں کو لوٹا جاتا ہے۔ خواتین کے زیورات اتارے جا رہے ہیں، مگر حکومت اور ریاستی ادارے تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ یہ بات انہوں نے کندھ کوٹ میں سردار حیدر علی خان جکھرانی سے ان کے کزن راجہ دین محمد جکھرانی کی وفات پر اظہار تعزیت کے بعد ضلعی صدر میر فائق علی خان جکھرانی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس میں موجودہ ملکی و مقامی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

انہوں نے بدامنی کی مسلسل وارداتوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج جماعت اسلامی سندھ کے صوبائی نائب امیر حافظ نصراللہ چنا کو دن دیہاڑے لوٹ لیا گیا۔ ان کی گاڑی، موبائل اور نقد رقم چھین لی گئی۔ اب کوئی شہری یہاں محفوظ نہیں رہا۔ ایک دن میں یہاں ایک درجن وارداتیں ہوتی ہیں۔ علامہ ڈومکی نے محرم سے قبل ان حالات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماہ محرم سے صرف چند دن پہلے ایسی صورتحال ہم سب کے لئے، بالخصوص عزاداروں، علماء، ذاکرین اور جلوسوں میں شریک عوام کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ رات کے وقت مجالس اور سفر کرنے والے خطباء و علماء مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سندھ فوری طور پر ایام عزاء میں عزاداروں، ذاکرین اور علماء کی سکیورٹی کے لئے خصوصی انتظامات کرے۔

علامہ مقصود ڈومکی نے کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں اور دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا محرم سے چند دن پہلے کالعدم دہشت گرد جماعت نے شہداد کوٹ اور کندھ کوٹ میں جلسہ کیا۔ عوامی اجتماعات میں اکابرین اور علماء کو سرعام دھمکیاں دیں۔ یہ ایک ناقابل قبول اور خطرناک عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ کالعدم جماعت کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے۔ شرپسند عناصر کے نام شیڈول فور میں شامل کئے جائیں، اور شہداد کوٹ اور کندھ کوٹ میں کی گئی شرانگیزی پر بھرپور قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی طرف سے عزاداری و چہلم کے متعلق جاری کردہ متنازعہ مراسلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نون لیگ کی حکومت تعصب پر مبنی کارروائیوں اور عزاداروں پر مقدمات کے سلسلے کو بند کرے۔ ہم ان غیر آئینی ہتھکنڈوں کو مسترد کرتے ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران علامہ مقصود ڈومکی نے بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کی جانب سے اپنے برادر اسلامی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام اور افواج کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا رہبر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای صرف ایران کے نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے سپریم لیڈر ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ان کی شان میں گستاخی سنگین جرم ہے، جس کا ردعمل دنیا بھر میں موجود کروڑوں عاشقان دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے نائب ہیں، اور وہ ہماری ریڈ لائن ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین کے ضلعی رہنماء میر فائق علی خان جکھرانی، میر نجم دین جکھرانی، بابر علی ملک، مجلس علماء مکتب اہل بیت کے ضلعی رہنماء علامہ سیف علی ڈومکی اور ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی رہنماء علامہ سہیل اکبر شیرازی بھی شریک تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود ڈومکی نے پریس کانفرنس ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے انہوں نے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی