ایران سے طلاب کی دوسری فلائٹ بھی آج نئی دہلی پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
فلائٹ میں تہران میں مقیم سفیروں کے اہل خانہ سوار تھے حالانکہ ان کی تعداد کے بارے میں فی الحال کوئی جانکاری نہیں مل سکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے شدت اختیار کر لی ہے۔ ان دونوں ممالک میں پھنسے دیگر ممالک کے باشندے جلد از جلد اپنے وطن واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ اس بیچ آج ہندوستانی باشندوں کو لے کر دوسری فلائٹ نے دہلی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی۔ بھارتی حکومت نے ہندوستانی افراد کی وطن واپسی کے لئے "آپریشن سندھو" شروع کیا ہے، جس کے تحت تہران سے نکالے گئے 110 ہندوستانی طلباء کو لے کر پہلی فلائٹ آج علی الصبح دہلی پہنچی تھی۔ اس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی مزید ایک طیارہ دہلی پہنچا جس میں ایران میں مقیم ہندوستانی سفیر شامل ہیں۔ ایران میں پھنسے ہندوستانیوں کو لے کر دوسری فلائٹ دہلی ایئرپورٹ جب پہنچی، تو اس کی خبر تیزی کے ساتھ پھیل گئی۔ اس فلائٹ کے بارے میں پہلے سے بہت زیادہ جانکاری سامنے نہیں آئی تھی۔ اس فلائٹ میں تہران میں مقیم سفیروں کے اہل خانہ سوار تھے حالانکہ ان کی تعداد کے بارے میں فی الحال کوئی جانکاری نہیں مل سکی ہے۔
اس درمیان وزیر مملکت برائے خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے "آپریشن سندھو" کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پاس فلائٹ تیار ہیں، ہم آج مزید طیارے بھیج رہے ہیں، ہم ترکمانستان سے ہوتے ہوئے کچھ دیگر لوگوں کو نکال رہے ہیں۔ وہاں سے اگر کوئی نکالنا چاہتا ہے، تو اس سے متعلق گزارش کے لئے ہمارے سفارت خانوں سے کبھی بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے جیسے حالات بدلیں گے، ہم ہندوستانی شہریوں کو وہاں سے بہ حفاظت نکالنے کے لئے مزید طیارہ بھیجیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس آپریشن میں مدد کے لئے ترکمانستان اور آرمینیا کی حکومتوں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ دراصل ایران میں پھنسے ہندوستانی طلباء و دیگر افراد کو پہلی فرصت میں وہاں سے نکال کر آرمینیا و ترکمانستان میں ٹھہرایا گیا اور پھر وہاں سے ہندوستانی واپسی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے بارے میں وہاں سے کے لئے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔