گرمی کے باعث تھکن، ہیٹ اسٹروک میں کیا کرنا چاہیے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
گرمی کے باعث تھکاوٹ محسوس ہونے اور ہیٹ اسٹروک کا شکار ہونے میں فرق ہوتا ہے جسے علامات کی مدد سے سمجھا اور اسی لحاظ سے اس کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی کی پیش گوئی، سول ڈیفنس کا شہریوں کے لیے انتباہ
اگر خود کسی طرح بروقت ٹھنڈک پہنچا لی جائے تو گرمی کی تھکن عموماً کوئی سیریس مسئلہ نہیں ہوتی تاہم ہیٹ اسٹروک ایک طبی ایمرجنسی ہے جس کے فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
گرمی کی تھکن اور ہیٹ اسٹروک میں کیا فرق ہے؟گرمی کی تھکن تب ہوتی ہے جب آپ کا جسم بہت زیادہ گرم ہو جاتا ہے اور اپنے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔
اس کی ایک واضح علامت ضرورت سے زیادہ پسینہ آنا اور خود کو بیمار جیسا محسوس کرنا ہوتے ہے۔ یہ آپ کے جسم کی جانب سے ایک سگنل ہوتا ہے کہ آپ جلد سے جلد خود کو ٹھنڈک پہنچا کر اس مشکل سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔
مزید پڑھیے: ہیٹ ویو سے کس طرح بچا جائے؟
اس کی دیگر علامات میں سر درد، چکر آنا، بھوک اڑ جانا، بازوؤں و ٹانگوں اور پیٹ میں درد ہونا، سانس یا نبض کا تیز چلنا، پیاس زیادہ لگنا بھی شامل ہیں
چھوٹے بچے جو آپ کو یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں اس صورتحال میں بے وقت کی غنودگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
خواہ کوئی کتنا ہی فٹ اور صحت مند کیوں نہ ہو گرمی کی تھکن کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر وہ افراد جنہوں نے زیادہ درجہ حرارت میں سخت ورزش کی ہو۔
گرمی کی تھکن ہیٹ اسٹروک میں بدل سکتی ہے جو کہ ایک طبی ایمرجنسی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کا جسم اب گرمی سے نپٹ نہیں پا رہا اور آپ کا بنیادی درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ رہا ہے لہٰذا اس صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
کن باتوں کو نوٹ کرنا اور فوری تدارک کرنا ضروری ہے؟ٹھنڈی جگہ پر 30 منٹ آرام کرنے اور کافی مقدار میں پانی پینے کے بعد بھی طبیعت ناساز محسوس کرنا، بہت گرمی محسوس کرتے ہوئے بھی پسینہ نہ آنا، 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر کا درجہ حرارت، تیز سانس لینا یا سانس مشکل سے آنا، الجھن محسوس کرنا، دورہ پڑنا، ہوش و حواس کام نہ کرنا۔
مزید پڑھیں: ہیٹ ویو: فالج سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
بوڑھے بالغوں اور چھوٹے بچوں کے ساتھ ساتھ طویل علالت کا سامنا کرنے والوں کو اس صورتحال میں زیادہ خطرہ درپیش ہوتا ہے۔
جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کمسنوں میں پوری طرح سے تیار نہیں ہوتی ہے اور بوڑھے بالغوں میں بیماری، ادویات یا دیگر عوامل کی وجہ سے اس میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ زیادہ وزن یا موٹاپا بھی جسم کو ٹھنڈک پہنچانے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
کسی کو گرمی کی تھکن یا ہیٹ اسٹروک ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟اگر کسی کو گرمی کے باعث تھکن کا سامنا ہو تو اس کو کسی ٹھنڈی جگہ پر یعنی ایئر کنڈیشنڈ کمرے یا کوئی سایہ دار جگہ آرام کروائیں۔
کسی بھی غیر ضروری لباس کو ہٹا دیں تاکہ متاثرہ فرد کی جلد کا زیادہ سے زیادہ حصہ ظاہر ہو سکے۔ اس کی جلد کو ٹھنڈا کریں جو کچھ بھی آپ کے پاس دستیاب ہو یعنی ایک ٹھنڈا، گیلا اسپنج یا فلالین، پانی کا چھڑکاؤ، گردن اور بغلوں کے گرد ٹھنڈا پیک استعمال کریں، یا انہیں کسی ٹھنڈی، گیلی چادر میں لپیٹیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں خطرناک ہیٹ ویو، بچاؤ کے لیے کیا احتیاط کی جائے؟
نم ہونے پر اس کی جلد کو پنکھے کی ہوا لگائیں اس سے پانی کو بخارات بننے اور جلد کو ٹھنڈا ہونے میں مدد ملے گی۔ ایسے متاثرہ فرد کو پانی یا ری ہائیڈریشن ڈرنکس پلائیں اور اس کی حالت جب تک بہتر نہ ہوجائے اس کے ساتھ رہیں۔ اس طرح گرمی کی تھکن سے متاثرہ فرد کو 30 منٹ کے اندر ٹھنڈا ہونا شروع ہو جانا چاہیے اور بہتر محسوس کرنا چاہیے لیکن اگر 30 منٹ کے بعد بھی حالت بہتر نہیں ہوتی تو پھر وہ ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے لہٰذا فوری طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شدید گرمی گرمی سے تھکن ہیٹ اسٹروک ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ ہیٹ اسٹروک کا تدارک ہیٹ اسٹروک کی علامات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گرمی سے تھکن ہیٹ اسٹروک ہیٹ اسٹروک کا تدارک ہیٹ اسٹروک میں گرمی کی تھکن کے لیے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر