بلوچستان، 13 اضلاع کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کیلئے کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
سرکاری اعلامیہ کے مطابق 10 جولائی تک متعلقہ اضلاع میں لیویز فورس تمام اثاثے پولیس کے حوالے کریگی، جبکہ 15 جولائی کو کمیٹی چیئرمین اعلیٰ حکام کو بریفنگ دینگے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے 13 اضلاع کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کیلئے اسپیشل سیکرٹری ہوم کی قیادت میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ جو 10 جولائی تک اپنی سفارشات صوبائی حکومت کو پیش کرے گی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے 13 اضلاع میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کیلئے اسپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ کی قیادت میں 5 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ ان اضلاع میں کوئٹہ، حب، لسبیلہ، گوادر، تربت، پنجگور، واشک، چاغی، خاران، نوشکی، ژوب، شیرانی اور قلعہ سیف اللہ شامل ہیں۔ کمیٹی کے ممبران میں ایڈیشنل سیکرٹری، محکمہ خزانہ، متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ایس پی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز، ونگ کمانڈرز شامل ہیں۔
کمیٹی بی ایریا کو اے ایریا میں ضم کرنے کی سفارشات 10 جولائی تک صوبائی حکومت کو پیش کرے گی۔ اس کے بعد 13 اضلاع کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔ کمیٹی 13 اضلاع میں تمام لیویز فورس بشمول اثاثے، اسلحہ، گولہ بارود وغیرہ کو متعلقہ ضلعی پولیس کے حوالے کرنے کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق تمام لیویز فورس مذکورہ اضلاع میں موجود اس کے اثاثوں کے ساتھ 10 جولائی 2025 تک متعلقہ ضلعی پولیس کے حوالے کر دی جائے۔ کمیٹی کے چیئرمین 15 جولائی 2025 کو وزیراعلیٰ بلوچستان اور کمانڈر 12 کور کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی کانفرنس میں اس معاملے پر بریفنگ دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیویز فورس کو پولیس میں ضم میں ضم کرنے کی اضلاع میں
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔