وزیر اعظم نے چیئرمین ایچ ای سی کے تقرر کے لیے سرچ کمیٹی بنادی
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان میں نئے چیئرمین کی تقرری کے لیے پروسس کی منظوری دے دی اور اس سلسلے میں باقاعدہ سرچ کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پاکستان کی منظوری سے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اسلام آباد کے چیئرپرسن کے انتخاب کے لیے سرچ کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کردیا گیا۔
جاری نوٹی فکیشن کے مطابق اس کمیٹی میں وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت بحیثیت کنوینر ہونگے جبکہ وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر، عارف سعید، جناب سلمان اختر، جہانزیب خان، ڈاکٹر انجم ہلائی، ڈاکٹر محمد نسیم قیصرانی اور سیکریٹری وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شامل ہیں۔
وزیر اعظم کی جانب سے تلاش کمیٹی کی تشکیل اور اس نوٹیفکیشن کے اجرا سے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کی مدت ملازمت میں مزید ایک سالہ توسیع کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔
وہ اپنی تیسری مدت پوری کررہے ہیں جو ایک سال کے لیے دی گئی تھی جبکہ اس سے قبل وہ ایک بار 2 سال اور ایک بار 4 سال کے لیے چیئرمین رہے۔
بتایا جارہا ہے کہ اب تلاش کمیٹی تقرری کا طریقہ کار طے کرے گی جس کے بعد اس سلسلے میں اشتہار جاری کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔