زری پالیسی اور آبنائے ہرمز
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
نئی زری پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے جس میں شرح سود کو برقرار رکھا گیا ہے۔ باور کرایا گیا کہ بجٹ کا مہنگائی پر محدود اثر پڑے گا۔ اقتصادی شرح نمو بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔ جب بھی زری پالیسی آتی ہے تو آیندہ کے لیے بڑے امکانات اور معیشت کی بہتری کے پیغامات لے کر آتی ہے۔
اس مرتبہ زری پالیسی میں بیان کیا گیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 11.
ملک بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا عمل تیزی سے بڑھنا شروع ہوگا اور یہ جنگ پاکستانی معیشت کو دباؤ میں لے سکتی ہے۔ پھر کیا یہ سچ ہوگا کہ بجٹ کا اثر مہنگائی پر محدود ہوگا۔ پاکستان کے پاس پٹرول جمع کرنے کے وافر ذخائرکی عدم موجودگی میں معیشت پر زبردست دباؤ دیکھنے میں آئے گا۔ اس کی مثال کوئٹہ سے لے لیتے ہیں جہاں بلوچستان اور ایران سرحد پر پابندی نے تیل کی نقل و حرکت کو جب انتہائی محدود کر دیا تو کوئٹہ کے پٹرول پمپ بند ہونے لگے اور جو کھلے تھے ان میں قطار در قطار لگتے چلے گئے، یقینا پٹرول کی قیمت بھی بڑھ گئی ہوگی۔
میرا خیال ہے کہ پاکستان کی معیشت ہو یا تجارتی خسارہ یا مہنگائی کا جن یا زرمبادلہ کے ذخائر اور بہت سی معیشت کی باتیں ایسی ہیں جو آبنائے ہرمز کی نقل و حرکت کے ساتھ متاثر ہوں گی۔آبنائے ہرمز یہ وہ چھوٹا سا بحری راستہ ہے جہاں سے روزانہ 21 ملین بیرل تیل عالمی معیشت کی رگوں میں دوڑایا جاتا ہے، اگر ایران جنگ کو یہاں تک کھینچ کر لے آتا ہے تو تیل کی عالمی قیمت میں اس جنگ کے باعث اضافہ ہوگا اور یہ سلسلہ اب مسلسل تسلسل اختیار کر کے تیل کی قیمت کو بڑھائے چلا جائے گا۔
جیسا 2006 میں بھی اسرائیل اور حزب اللہ جنگ کے نتیجے میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب تیل 150 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا تھا اور دنیا کے تمام غریب ممالک بشمول پاکستان اس معاشی ریت کے قلعے میں محصور ہو کر رہ گئے تھے جسے تیز ہوا کا ایک جھونکا گرا سکتا تھا۔ ہرمز بظاہر عالمی نقشے میں بس ایک تنگ سی لکیر نظر آتی ہے لیکن اس کے اندر عالمی طاقتوں کا کھیل چھپا ہوا ہے۔ اس کھیل کو شروع کرنے میں برطانیہ نے پہل کردی جس کے جنگی جہاز کو ایران نے روک بھی دیا ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرۂ عرب سے بھی جوڑتی ہے۔
اس طرح اس جگہ ہونے والی کشیدگی کے فوری اور تیز رفتاری کے ساتھ اثرات کے ساتھ پاکستان بھی منسلک ہو چکا ہے۔ ادھر امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز کے کنارے آنے سے قبل بحیرہ عرب سے متعارف ہونے کی کوشش کریں گے۔
یہاں سے پاکستانی بحریہ کو بھی فوراً الرٹ ہو جانے کا پیغام مل جائے گا۔ کہنا یہ ہے کہ جب تیل کی عالمی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہوگا ایسے میں تجارتی خسارے کی مالیت میں بے انتہا اضافہ ہوگا۔ زرمبادلہ کے ذخائر کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ڈالر کی قدر کو بڑھائے چلی جائے گی۔ مرکزی بینک نے شرح نمو کے بڑھتے رہنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن آبنائے ہرمز کے بند ہونے اور تیل کی عالمی قیمت کے بے انتہا اوپر جانے کے یقینی ہونے کے بعد ڈالر کی پرواز اونچی ہو جانے کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا اندیشہ ہے، اب شرح نمو کی بڑھوتری کا حل ڈھونڈ نا ہوگا۔
ماہ جون میں قومی اسمبلی ہال میں بجٹ تقاریر جاری ہیں۔ پیپلز پارٹی بھی اصلاحات پر زور دے رہی ہے۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں بجٹ تجاویز دی گئی تھی جب تیل کی عالمی قیمتوں کے اضافے کے توقعات نہ ہونے کی صورت میں بجٹ اہداف کے حصول کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، لیکن اب چند دنوں میں حالات بدل گئے ہیں اور مزید کساد بازاری اور معیشت میں جمود کی باتیں ہو رہی ہیں ایسے میں معیشت کو حرکت دینے کے لیے کاروباری مندی کو کم ازکم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے ان اخراجات میں اضافہ کرنا پڑے گا جس سے معیشت کو بھرپور تقویت حاصل ہو۔ ان میں سب سے اہم مزید افراد کو غربت کی کھٹائی میں جانے سے بچانا ہے۔
چونکہ بزرگ پنشنرز کی پنشن میں ایک قلیل اضافہ محض 7 فی صد کیا گیا ہے جس سے ان کی مالی حالت مزید پتلی ہو جائے گی۔ بہت سے پنشنروں نے اپنی حالت زار بیان کی ہے لہٰذا حکومت ان بزرگوں کو فوری ریلیف پہنچاتے ہوئے ان کی پنشن کو کم ازکم دگنا کر دے تاکہ ان کے خرچ کردہ رقوم معیشت میں داخل ہو۔ ادھر پنجاب میں کم ازکم تنخواہ 40 ہزار کر دی گئی ہے معیشت میں اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یقینی طور پر طلب میں اضافہ ہوگا اور معاشی پہیہ رکنے کے بجائے چلتا رہے گا۔ اس سے عالمی منڈی کے منفی اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زرمبادلہ کے ذخائر تیل کی عالمی قیمت زری پالیسی اضافہ ہو کی قیمت کے ساتھ گیا ہے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔