Express News:
2026-06-03@01:56:15 GMT

زری پالیسی اور آبنائے ہرمز

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

نئی زری پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے جس میں شرح سود کو برقرار رکھا گیا ہے۔ باور کرایا گیا کہ بجٹ کا مہنگائی پر محدود اثر پڑے گا۔ اقتصادی شرح نمو بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔ جب بھی زری پالیسی آتی ہے تو آیندہ کے لیے بڑے امکانات اور معیشت کی بہتری کے پیغامات لے کر آتی ہے۔

اس مرتبہ زری پالیسی میں بیان کیا گیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 11.

7 ارب ڈالر تک ہیں اور تجارتی خسارے میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن مشکل یہ آ پہنچی ہے کہ ایران اسرائیل جنگ آبنائے ہرمز تک پہنچنے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ ابھی جنگ کا آغاز ہوا تھا کہ تیل کی عالمی قیمت بڑھ گئی، پاکستان نے بھی فوراً تیل کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ اب ان سب باتوں کا عالمی سیاسی معیشت اور جنگ کے ایسے اثرات مرتب ہوں گے کہ اگلی زری پالیسی پر دباؤ پڑے گا جس سے تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

ملک بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا عمل تیزی سے بڑھنا شروع ہوگا اور یہ جنگ پاکستانی معیشت کو دباؤ میں لے سکتی ہے۔ پھر کیا یہ سچ ہوگا کہ بجٹ کا اثر مہنگائی پر محدود ہوگا۔ پاکستان کے پاس پٹرول جمع کرنے کے وافر ذخائرکی عدم موجودگی میں معیشت پر زبردست دباؤ دیکھنے میں آئے گا۔ اس کی مثال کوئٹہ سے لے لیتے ہیں جہاں بلوچستان اور ایران سرحد پر پابندی نے تیل کی نقل و حرکت کو جب انتہائی محدود کر دیا تو کوئٹہ کے پٹرول پمپ بند ہونے لگے اور جو کھلے تھے ان میں قطار در قطار لگتے چلے گئے، یقینا پٹرول کی قیمت بھی بڑھ گئی ہوگی۔

میرا خیال ہے کہ پاکستان کی معیشت ہو یا تجارتی خسارہ یا مہنگائی کا جن یا زرمبادلہ کے ذخائر اور بہت سی معیشت کی باتیں ایسی ہیں جو آبنائے ہرمز کی نقل و حرکت کے ساتھ متاثر ہوں گی۔آبنائے ہرمز یہ وہ چھوٹا سا بحری راستہ ہے جہاں سے روزانہ 21 ملین بیرل تیل عالمی معیشت کی رگوں میں دوڑایا جاتا ہے، اگر ایران جنگ کو یہاں تک کھینچ کر لے آتا ہے تو تیل کی عالمی قیمت میں اس جنگ کے باعث اضافہ ہوگا اور یہ سلسلہ اب مسلسل تسلسل اختیار کر کے تیل کی قیمت کو بڑھائے چلا جائے گا۔

جیسا 2006 میں بھی اسرائیل اور حزب اللہ جنگ کے نتیجے میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب تیل 150 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا تھا اور دنیا کے تمام غریب ممالک بشمول پاکستان اس معاشی ریت کے قلعے میں محصور ہو کر رہ گئے تھے جسے تیز ہوا کا ایک جھونکا گرا سکتا تھا۔ ہرمز بظاہر عالمی نقشے میں بس ایک تنگ سی لکیر نظر آتی ہے لیکن اس کے اندر عالمی طاقتوں کا کھیل چھپا ہوا ہے۔ اس کھیل کو شروع کرنے میں برطانیہ نے پہل کردی جس کے جنگی جہاز کو ایران نے روک بھی دیا ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرۂ عرب سے بھی جوڑتی ہے۔

اس طرح اس جگہ ہونے والی کشیدگی کے فوری اور تیز رفتاری کے ساتھ اثرات کے ساتھ پاکستان بھی منسلک ہو چکا ہے۔ ادھر امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز کے کنارے آنے سے قبل بحیرہ عرب سے متعارف ہونے کی کوشش کریں گے۔

یہاں سے پاکستانی بحریہ کو بھی فوراً الرٹ ہو جانے کا پیغام مل جائے گا۔ کہنا یہ ہے کہ جب تیل کی عالمی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہوگا ایسے میں تجارتی خسارے کی مالیت میں بے انتہا اضافہ ہوگا۔ زرمبادلہ کے ذخائر کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ڈالر کی قدر کو بڑھائے چلی جائے گی۔ مرکزی بینک نے شرح نمو کے بڑھتے رہنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن آبنائے ہرمز کے بند ہونے اور تیل کی عالمی قیمت کے بے انتہا اوپر جانے کے یقینی ہونے کے بعد ڈالر کی پرواز اونچی ہو جانے کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا اندیشہ ہے، اب شرح نمو کی بڑھوتری کا حل ڈھونڈ نا ہوگا۔

ماہ جون میں قومی اسمبلی ہال میں بجٹ تقاریر جاری ہیں۔ پیپلز پارٹی بھی اصلاحات پر زور دے رہی ہے۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں بجٹ تجاویز دی گئی تھی جب تیل کی عالمی قیمتوں کے اضافے کے توقعات نہ ہونے کی صورت میں بجٹ اہداف کے حصول کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، لیکن اب چند دنوں میں حالات بدل گئے ہیں اور مزید کساد بازاری اور معیشت میں جمود کی باتیں ہو رہی ہیں ایسے میں معیشت کو حرکت دینے کے لیے کاروباری مندی کو کم ازکم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے ان اخراجات میں اضافہ کرنا پڑے گا جس سے معیشت کو بھرپور تقویت حاصل ہو۔ ان میں سب سے اہم مزید افراد کو غربت کی کھٹائی میں جانے سے بچانا ہے۔

چونکہ بزرگ پنشنرز کی پنشن میں ایک قلیل اضافہ محض 7 فی صد کیا گیا ہے جس سے ان کی مالی حالت مزید پتلی ہو جائے گی۔ بہت سے پنشنروں نے اپنی حالت زار بیان کی ہے لہٰذا حکومت ان بزرگوں کو فوری ریلیف پہنچاتے ہوئے ان کی پنشن کو کم ازکم دگنا کر دے تاکہ ان کے خرچ کردہ رقوم معیشت میں داخل ہو۔ ادھر پنجاب میں کم ازکم تنخواہ 40 ہزار کر دی گئی ہے معیشت میں اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یقینی طور پر طلب میں اضافہ ہوگا اور معاشی پہیہ رکنے کے بجائے چلتا رہے گا۔ اس سے عالمی منڈی کے منفی اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زرمبادلہ کے ذخائر تیل کی عالمی قیمت زری پالیسی اضافہ ہو کی قیمت کے ساتھ گیا ہے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ