حیدرآباد ، کل کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی نائب صدر ستار رند، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ راحیل بھٹو اور مرکزی رہنما نور نبی پلیجو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ 21 جون 2025 ء کو جنگشاہی کے قریب گاؤں منگر خان پلیجو میں کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں، نہروں اور وسائل کی لوٹ مار کے خلاف ملک گیر جلسہ عام اور مظلوم قوموں و طبقوں کی مضبوط آواز رسول بخش پلیجو کی ساتویں برسی کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ملک بھر کی جمہوریت پسند، وطن دوست اور بائیں بازو کی قوتوں کو کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں اور نہروں کے خلاف اس جلسہ عام میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی، پاکستان مزدور کسان پارٹی کے صدر عظیم سعید، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ، معروف ماہرِ آب ڈاکٹر حسن عباس، دانشور، محقق اور مصنف نصیر میمن، جامی چانڈیو سمیت ملک بھر کے مختلف ادیبوں، شاعروں، قلمکاروں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کو جلسے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 21 جون 2025 ء کو گاؤں منگر خان پلیجو، جنگشاہی میں کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں اور نہروں کے خلاف زبردست ، تاریخی اور فیصلہ کن جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے لیے سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور سرائیکی وسیب کی زمینیں، وسائل اور معدنیات نیلام کی جا رہی ہیں، جن پر ملک کی مظلوم قوموں اور طبقوں کو شدید اعتراضات ہیں۔ یہ منصوبے سندھ سمیت چھوٹے صوبوں کے وجود کو مٹانے کی سازش ہیں۔21 جون کو منگر خان پلیجو گاؤں میں ہزاروں افراد اکٹھے ہو کر کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں اور دریائے سندھ پر نئی نہروں کو مسترد کریں گے۔رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کالا باغ ڈیم کی حمایت میں دیا گیا بیان ملک دشمنی کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔